کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

اندیشے

روح بے چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہے دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز محبت کیا ہے وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہے رنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا وہ کہاں اور کہاں کاہش غم، سوزش جاں اس کی رنگین نظر اور نقوش حرماں اس کا احساس لطیف اور شکست ارماں طعنہ زن ایک زمانہ نظر آیا ہوگا جھک گئی ہوگی جواں سال امنگوں کی جبیں مٹ گئی ہوگی للک، ڈوب گیا ہوگا یقیں چھا گیا ہوگا دھواں، گھوم گئی ہوگی زمیں اپنے پہلے ہی گھروندے کو جو ڈھایا ہوگا دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں گے اشک آنکھوں نے پئے اور نہ بہائے ہوں گے بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گے ایک اک حرف جبیں پر ابھر آیا ہوگا اس نے گھبرا کے نظر لاکھ بچائی ہوگی مٹ کے اک نقش نے سو شکل دکھائی ہوگی میز سے جب مری تصویر ہٹائی ہوگی ہر طرف مجھ کو تڑپتا ہوا پایا ہوگا بے محل چھیڑ پہ جذبات ابل آئے ہوں گے غم پشیمان تبسم میں ڈھل آئے ہوں گے نام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گے سر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہوگا زلف ضد کر کے کسی نے جو ہٹائی ہوگی روٹھے جلووں پہ خزاں اور بھی چھائی ہوگی برق عشووں نے کئی دن نہ گرائی ہوگی رنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہوگا

— کیفی اعظمی

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو بن جائیں گے زہر پیتے پیتے یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو

— کیفی اعظمی