کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ

کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو ڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ منزل سے وہ بھی دور تھا اور ہم بھی دور تھے ہم نے بھی دھول اڑائی بہت رہ نما کے ساتھ رقص صبا کے جشن میں ہم تم بھی ناچتے اے کاش تم بھی آ گئے ہوتے صبا کے ساتھ اکیسویں صدی کی طرف ہم چلے تو ہیں فتنے بھی جاگ اٹھے ہیں آواز پا کے ساتھ ایسا لگا غریبی کی ریکھا سے ہوں بلند پوچھا کسی نے حال کچھ ایسی ادا کے ساتھ

— کیفی اعظمی

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی

ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی میرا چھپر اٹھا گیا کوئی لگ گیا اک مشین میں میں بھی شہر میں لے کے آ گیا کوئی میں کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری اشتہار اک لگا گیا کوئی یہ صدی دھوپ کو ترستی ہے جیسے سورج کو کھا گیا کوئی ایسی مہنگائی ہے کہ چہرہ بھی بیچ کے اپنا کھا گیا کوئی اب وہ ارمان ہیں نہ وہ سپنے سب کبوتر اڑا گیا کوئی وہ گئے جب سے ایسا لگتا ہے چھوٹا موٹا خدا گیا کوئی میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی

— کیفی اعظمی