سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ تھوڑا سا پیار بھی مجھے دے دو سزا کے ساتھ گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو ڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ منزل سے وہ بھی دور تھا اور ہم بھی دور تھے ہم نے بھی دھول اڑائی بہت رہ نما کے ساتھ رقص صبا کے جشن میں ہم تم بھی ناچتے اے کاش تم بھی آ گئے ہوتے صبا کے ساتھ اکیسویں صدی کی طرف ہم چلے تو ہیں فتنے بھی جاگ اٹھے ہیں آواز پا کے ساتھ ایسا لگا غریبی کی ریکھا سے ہوں بلند پوچھا کسی نے حال کچھ ایسی ادا کے ساتھ
ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی میرا چھپر اٹھا گیا کوئی لگ گیا اک مشین میں میں بھی شہر میں لے کے آ گیا کوئی میں کھڑا تھا کہ پیٹھ پر میری اشتہار اک لگا گیا کوئی یہ صدی دھوپ کو ترستی ہے جیسے سورج کو کھا گیا کوئی ایسی مہنگائی ہے کہ چہرہ بھی بیچ کے اپنا کھا گیا کوئی اب وہ ارمان ہیں نہ وہ سپنے سب کبوتر اڑا گیا کوئی وہ گئے جب سے ایسا لگتا ہے چھوٹا موٹا خدا گیا کوئی میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی