کیفی اعظمی

کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی

14 January 2026

16سپیکرز
172لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا

کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا کتنا سرشار ہے ذوق چمن آرائی آج اس سلیقے سے سجائی گئی بزم گیتی تو بھی دیوار اجنتا سے اتر آئی آج رونمائی کی یہ ساعت یہ تہی دستیٔ شوق نہ چرا سکتا ہوں آنکھیں نہ ملا سکتا ہوں پیار سوغات، وفا نذر، محبت تحفہ یہی دولت ترے قدموں پہ لٹا سکتا ہوں کب سے تخئیل میں لرزاں تھا یہ نازک پیکر کب سے خوابوں میں مچلتی تھی جوانی تیری میرے افسانے کا عنوان بنی جاتی ہے ڈھل کے سانچے میں حقیقت کے کہانی تیری مرحلے جھیل کے نکھرا ہے مذاق تخلیق سعئ پیہم نے دیے ہیں یہ خد و خال تجھے زندگی چلتی رہی کانٹوں پہ، انگاروں پر جب ملی اتنی حسیں، اتنی سبک چال تجھے تیرے قامت میں ہے انساں کی بلندی کا وقار دختر شہر ہے، تہذیب کا شہکار ہے تو اب نہ جھپکے گی پلک، اب نہ ہٹیں گی نظریں حسن کا میرے لیے آخری معیار ہے تو یہ ترا پیکر سیمیں، یہ گلابی ساری دست محنت نے شفق بن کے اڑھا دی تجھ کو جس سے محروم ہے فطرت کا جمال رنگیں تربیت نے وہ لطافت بھی سکھا دی تجھ کو آگہی نے تری باتوں میں کھلائیں کلیاں علم نے شکریں لہجے میں نچوڑے انگور دل ربائی کا یہ انداز کسے آتا تھا تو ہے جس سانس میں نزدیک اسی سانس میں دور یہ لطافت، یہ نزاکت، یہ حیا، یہ شوخی سو دیے جلتے ہیں امڈی ہوئی ظلمت کے خلاف لب شاداب پہ چھلکی ہوئی گلنار ہنسی اک بغاوت ہے یہ آئین جراحت کے خلاف حوصلے جاگ اٹھے سوز یقیں جاگ اٹھا نگہ ناز کے بے نام اشاروں کو سلام تو جہاں رہتی ہے اس ارض حسیں پر سجدہ جن میں تو ملتی ہے ان راہ گزاروں کو سلام آ قریب آ کہ یہ جوڑا میں پریشاں کر دوں تشنہ کامی کو گھٹاؤں کا پیام آ جائے جس کے ماتھے سے ابھرتی ہیں ہزاروں صبحیں مری دنیا میں بھی ایسی کوئی شام آ جائے

— کیفی اعظمی

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز بزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی تو جہاں تھی اسی جنت میں نکھرتا ترا روپ اس جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسم اور دل جس پہ خد و خال کی نرمی بھی نثار خار ہی خار شرارے ہی شرارے ہیں یہاں اور تھم تھم کے اٹھا پاؤں بہاروں کی بہار تشنگی زہر بھی پی جاتی ہے امرت کی طرح جانے کس جام پہ رک جائے نگاہ معصوم ڈوبتے دیکھا ہے جن آنکھوں میں مے خانہ بھی پیاس ان آنکھوں کی بجھے یا نہ بجھے کیا معلوم ہیں سبھی حسن پرست اہل نظر صاحب دل کوئی گھر میں کوئی محفل میں سجائے گا تجھے تو فقط جسم نہیں شعر بھی ہے گیت بھی ہے کون اشکوں کی گھنی چھاؤں میں گائے گا تجھے تجھ سے اک درد کا رشتہ بھی ہے بس پیار نہیں اپنے آنچل پہ مجھے اشک بہا لینے دے تو جہاں جاتی ہے جا، روکنے والا میں کون اپنے رستے میں مگر شمع جلا لینے دے

— کیفی اعظمی