زین شکیل

خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)

06 December 2025

21سپیکرز
372لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل

وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل وہ ہے لاکھوں میں فقط ایک ہمارا پاگل تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبی میں بتاتا بھی رہا یہ ہے کنارہ، پاگل ہر کسی سے نہیں امید لگائی جاتی ہر کوئی دے نہیں سکتا ہے سہارا، پاگل! وہ بھی قسطوں میں دکھاتا ہے ادائیں اپنی وہ بھی ہونے نہیں دیتا مجھے سارا پاگل اس پہ کیا رونا، تمہیں کوئی سمجھتا ہی نہیں مجھ سے آ کر تو کہو، میں ہوں تمہارا، پاگل! ساتھ تم تھے تو ہمیں راس تھا پاگل پن بھی اب ترے بعد کریں کیسے گزارہ؟، پاگل! دور تم جب سے ہوئے تب سے ہمارے حصے بس خسارہ ہے، خسارہ ہے، خسارہ، پاگل!

— زین شکیل

یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے

یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے کون کہتا ہے تری مجھ سے جدائی ہوئی ہے میں تو آنکھوں کو بھی پڑھنے کا ہنر جانتا ہوں تو نے اک بات کہیں مجھ سے چھپائی ہوئی ہے لوگ آتے ہیں مرے گھر کی زیارت کےلیے میں نے تصویر تری گھر میں لگائی ہوئی ہے یہ جو غم ہے نا ترے ہجر کا بکھرا ہوا غم ہم نے اس غم سے پرے کٹیا بسائی ہوئی ہے اب جو ہر بات ہواؤں نے بتائی ہے تجھے میں نے ہر بات ہواؤں کو سنائی ہوئی ہے میں اکیلا تو نہیں تیرا تصور ہے یہاں اور کمرے میں اداسی بھی بلائی ہوئی ہے ہم کہاں بکتے تھے ان وقت کے شاہوں کو کبھی تیری حسرت ہمیں بازار میں لائی ہوئی ہے

— زین شکیل