سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل وہ ہے لاکھوں میں فقط ایک ہمارا پاگل تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبی میں بتاتا بھی رہا یہ ہے کنارہ، پاگل ہر کسی سے نہیں امید لگائی جاتی ہر کوئی دے نہیں سکتا ہے سہارا، پاگل! وہ بھی قسطوں میں دکھاتا ہے ادائیں اپنی وہ بھی ہونے نہیں دیتا مجھے سارا پاگل اس پہ کیا رونا، تمہیں کوئی سمجھتا ہی نہیں مجھ سے آ کر تو کہو، میں ہوں تمہارا، پاگل! ساتھ تم تھے تو ہمیں راس تھا پاگل پن بھی اب ترے بعد کریں کیسے گزارہ؟، پاگل! دور تم جب سے ہوئے تب سے ہمارے حصے بس خسارہ ہے، خسارہ ہے، خسارہ، پاگل!
یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے
یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے کون کہتا ہے تری مجھ سے جدائی ہوئی ہے میں تو آنکھوں کو بھی پڑھنے کا ہنر جانتا ہوں تو نے اک بات کہیں مجھ سے چھپائی ہوئی ہے لوگ آتے ہیں مرے گھر کی زیارت کےلیے میں نے تصویر تری گھر میں لگائی ہوئی ہے یہ جو غم ہے نا ترے ہجر کا بکھرا ہوا غم ہم نے اس غم سے پرے کٹیا بسائی ہوئی ہے اب جو ہر بات ہواؤں نے بتائی ہے تجھے میں نے ہر بات ہواؤں کو سنائی ہوئی ہے میں اکیلا تو نہیں تیرا تصور ہے یہاں اور کمرے میں اداسی بھی بلائی ہوئی ہے ہم کہاں بکتے تھے ان وقت کے شاہوں کو کبھی تیری حسرت ہمیں بازار میں لائی ہوئی ہے