سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُو
خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُو بات میں زہر گھولتا ہوا تُو آج بس غور سے سنا میں نے میرے لہجے میں بولتا ہوا تُو میں پروتا ہوا تجھے ان میں میرے الفاظ تولتا ہوا تُو آج پھر سے مجھے نظر آیا رنگ اُداسی میں گھولتا ہوا تُو پھر وہی تھامتا ہوا اِک میں پھر مسلسل ہے ڈولتا ہوا تُو دے کے دستک میں کاش پھر دیکھوں در کو چپ چاپ کھولتا ہوا تُو
کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہے
کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہے سناٹا ہی کیوں آخر چِلایا ہے تم بھی کیسی کیسی باتیں کرتے ہو کیسا کیسا تم نے ڈھونگ رچایا ہے شاخیں بھی تو پیڑ کے دکھ میں روئی ہیں پتوں نے بھی وافر شور مچایا ہے آج ہماری آنکھیں اتنا برسی ہیں آج برس کر ساون بھی پچھتایا ہے ہجر کے ماروں کو یوں ڈسنا ٹھیک نہیں ہم نے کالی راتوں کو سمجھایا ہے آج ہمارے بھاگ جگے ہیں اے لوگو آج ہمارا سانول ملنے آیا ہے میں نے اس کی آنکھوں سے الفاظ چنے اور اس کے ہونٹوں سے گیت بنایا ہے