زین شکیل

خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)

06 December 2025

21سپیکرز
372لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے

تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے تم نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہی کب تھا لہجوں میں بھی اکتاہٹ چھوڑ آئے تھے اپنوں سے رتّی بھر دوری کیا معنی؟ میرے کمرے میں بے چینی کا ڈھولک تک دھن تک دھن تک دھنا دھن بجتا ہے اس پر رقصاں تنہائی تھیّا تھیّا اور تماشا میرے ٹوٹے خوابوں کا اور تمہاری تعبیروں کی تصویریں چھوڑو ! اب یہ باتیں تم سے کیا کرنی اب خود ٹوٹے تو احساس ہوا ہے ناں کس نے تھاما ہاتھ ذرا بتلاؤ تو کس نے آن لگایا اپنے سینے سے کتنا میں تم کو سمجھایا کرتا تھا اپنے ہی بس اپنے ہوتے ہیں آخر تب میری باتیں بےکار سمجھتے تھے اب روتے رہنے سے کیا ہو گا پاگل؟ یہ تو تم نے پہلے سوچا ہوتا ناں! تم نے مجھ کو غیر ضروری سمجھا تھا!!!

— زین شکیل

اداسی بین کرتی ہے

اداسی بین کرتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی مجھے تم یاد آتے ہو یہ نیناں روز روتے ہیں مجھے تم یاد آتے ہو تمہیں واپس بلاتے ہیں مجھے تم یاد آتے ہو مرے تم پاس ہو کر بھی مجھے تم یاد آتے ہو بڑی بوجھل طبیعت ہے مجھے تم یاد آتے ہو جدائی جان لیتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو مجھے ہنسنا نہیں آتا مجھے تم یاد آتے ہو مری ہر سانس کہتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو مجھے اتنا ستاتے ہو مجھے تم یاد آتے ہو مجھے کتنا رُلاتے ہو مجھے تم یاد آتے ہو

— زین شکیل