سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
چاند کو اور بھی نکھار ملے
چاند کو اور بھی نکھار ملے وہ اگر تجھ سے ایک بار ملے آج کا دن عذاب تھا سچ میں آج تو تم بھی بے قرار ملے شہر میں بھی عجب اداسی تھی سارے چہرے ہی اشکبار ملے کون حیرت سجائے آنکھوں میں کون اب تجھ سے بار بار ملے میں جو اپنے وجود سے گزروں تو مجھے میرے آر پار ملے میری حسرت ہے جب ملوں تجھ سے تو مجھے محوِ انتظار ملے کاش دریا مجھے عبور کرے اور تُو مجھ کو میرے پار ملے سبز جھولے کی لاج رکھ سائیاں مجھ کو کاسے میں تیرا پیار ملے
درد دل میں سمو لیا جائے
درد دل میں سمو لیا جائے آج تھوڑا سا رو لیا جائے ہاتھ آیا تو میں نے یہ سوچا اُس کا دامن بھگو لیا جائے ہم تو بس اس خیال سے روئے کیوں نہ آنکھوں کو دھو لیا جائے کل ستاروں سے بات کر لیں گے آج کی رات سو لیا جائے تجھ کو آخر سمیٹ رکھنا ہے کیوں نہ خود میں پِرو لیا جائے اجنبی لگ رہی ہیں یہ خوشیاں اب کسی غم کا ہو لیا جائے