زین شکیل

خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)

06 December 2025

21سپیکرز
372لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

چاند کو اور بھی نکھار ملے

چاند کو اور بھی نکھار ملے وہ اگر تجھ سے ایک بار ملے آج کا دن عذاب تھا سچ میں آج تو تم بھی بے قرار ملے شہر میں بھی عجب اداسی تھی سارے چہرے ہی اشکبار ملے کون حیرت سجائے آنکھوں میں کون اب تجھ سے بار بار ملے میں جو اپنے وجود سے گزروں تو مجھے میرے آر پار ملے میری حسرت ہے جب ملوں تجھ سے تو مجھے محوِ انتظار ملے کاش دریا مجھے عبور کرے اور تُو مجھ کو میرے پار ملے سبز جھولے کی لاج رکھ سائیاں مجھ کو کاسے میں تیرا پیار ملے

— زین شکیل

درد دل میں سمو لیا جائے

درد دل میں سمو لیا جائے آج تھوڑا سا رو لیا جائے ہاتھ آیا تو میں نے یہ سوچا اُس کا دامن بھگو لیا جائے ہم تو بس اس خیال سے روئے کیوں نہ آنکھوں کو دھو لیا جائے کل ستاروں سے بات کر لیں گے آج کی رات سو لیا جائے تجھ کو آخر سمیٹ رکھنا ہے کیوں نہ خود میں پِرو لیا جائے اجنبی لگ رہی ہیں یہ خوشیاں اب کسی غم کا ہو لیا جائے

— زین شکیل