سپیکرز
عروج فیاض کا پیش کردہ کلام
کسی فراق میں رکھے ہوئے وصال کے دن
کسی فراق میں رکھے ہوئے وصال کے دن ہیں مدتوں سے کہیں لاپتہ کمال کے دن جسے عروج پہ جا کر مشقتوں سے ملا وہ شخص مجھ سے کہیں کھو گیا زوال کے دن یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کام آ نہ سکی جواب دے نہ سکا میں کسی سوال کے دن تصورات کی راتوں میں سوگ برپا ہے کہیں پہ قتل ہوئے ہیں مرے خیال کے دن یہ جانتا ہوں کہ ممکن نہیں وہ لوٹ سکے گزارتا ہوں مگر زین احتمال کے دن
چاند کو اور بھی نکھار ملے
چاند کو اور بھی نکھار ملے وہ اگر تجھ سے ایک بار ملے آج کا دن عذاب تھا سچ میں آج تو تم بھی بے قرار ملے شہر میں بھی عجب اداسی تھی سارے چہرے ہی اشکبار ملے کون حیرت سجائے آنکھوں میں کون اب تجھ سے بار بار ملے میں جو اپنے وجود سے گزروں تو مجھے میرے آر پار ملے میری حسرت ہے جب ملوں تجھ سے تو مجھے محوِ انتظار ملے کاش دریا مجھے عبور کرے اور تُو مجھ کو میرے پار ملے سبز جھولے کی لاج رکھ سائیاں مجھ کو کاسے میں تیرا پیار ملے