سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا رونے والوں کو بہر طور ہنسا کر رونا درد کو بانٹنے آ جائیں یہ جھونکے سارے یوں مرا نام ہواؤں کو بتا کر رونا لوگ لے لے کے مرا نام ستائیں گے ناں آنسوؤں کی کوئی تمہید بنا کر رونا اوس بکھری ہوئی پھولوں پہ بھلی لگتی ہے اپنی آنکھوں کو بھی راہوں میں بچھا کر رونا کوئی بھی دردادھر سے نہ اُدھر ہو پائے آنسوؤں کی ذرا ترتیب لگا کر رونا لوگ ہر بات پہ محشر سا اُٹھا دیتے ہیں تم کبھی حال نہ اوروں کو سنا کر رونا ایسے تنہائی میں مت رو کے گنواؤ مجھ کو میں جو آ جاؤں تو سینے سے لگا کر رونا بھیجنا ہاتھ پرندوں کے، غموں کے نوحے یوں مرا سوگ ہواؤں میں منا کر رونا زینؔ اس واسطے ٹھہری نہیں حالت اپنی ایک ہی شخص کو خوابوں میں بُلا کر رونا
اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا
اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا نہ ان اندھیروں میں ہاتھ تم سے کوئی ملائے تو مجھ سے کہنا مجھے یقیں ہے کہ مجھ سے بڑھ کر تمہیں کسی نے نہیں ہے چاہا مری طرح سے کوئی تمہیں جب گلے لگائے تو مجھ سے کہنا یہ بن سنور کر جو تم نے ماتھے پہ ایک جھومر سجا لیا ہے مگر سجایا تھا جیسا میں نے کوئی سجائے تو مجھ سے کہنا محبتوں میں عذاب لگتا ہے ہجر لیکن نہیں ہے ایسا مگر نظر سے فراق تیری نظر ملائے تو مجھ سے کہنا نہ ہر کسی پر یقین کرنا بغیر سوچے بغیر سمجھے تمہیں کوئی بھی جو میرے بارے میں کچھ بتائے تو مجھ سے کہنا میں تیری یادوں کی آخری حد میں نقش ایسے ہوا ہوں جاناں خیال میرا تمہیں جو اک پل بھی بھول جائے تو مجھ سے کہنا بہت کہا تھا یقین رکھنا کہ زین تم سے جدا نہیں ہے اگر ذرا سا بھی میری باتوں میں فرق آئے تو مجھ سے کہنا