سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیا
قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیا میرا دُکھ سے دائم رشتہ جوڑ دیا میں تو اب تک، یار! غریقِ حیرت ہوں کیسے تُو نے میرے دل کو توڑ دیا؟ ہم نے رب سے جتنے سکھ منگوائے تھے سب کا رستہ تیری جانب موڑ دیا تھوڑی سی خودداری بھی تو لازم تھی جس نے ہاتھ چھڑایا، ہم نے چھوڑ دیا پہلے بھیک میں خوشیاں مانگا کرتے تھے عشق ہوا تو ہم نے کاسہ توڑ دیا
حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں
حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں ایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائے ہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں یوں مسلسل مجھے تکنے کی نہ عادت ڈالو یہ نہ ہو آنکھ جو جھپکو تو بکھر جاؤں میں کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟ گر تجھے دیکھ کے چپ چاپ گزر جاؤں میں دیکھو انجام تو دینے ہیں امورِ دنیا جی تو کرتا ہے ترے پاس ٹھہر جاؤں میں تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں جس قدر بگڑا ہوا ہوں میں یہی سوچتا ہوں کب ترے ہاتھ لگوں اور سُدھر جاؤں میں کون ہے ، بول مرا، میری اداسی ! تجھ بن تُو بھی گر پاس نہ آئے تو کدھر جاؤں میں یہ مری عمر فقط چاہ میں تیری گزرے مر نہ جاؤں جو ترے دل سے اتر جاؤں میں