سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا
تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا ! اب بچھڑنے کا ترے وقت ہوا چاہتا ہے ! اجنبیت ترے لہجے کی ! پتا دیتی ہے ! تُو خفا ہے تو نہیں ! ہونا خفا چاہتا ہے ! میری تہمت نہ لگے تجھ پہ ! سو میں دور ہوا ! مجھ سے بڑھ کر ترا اب کون، بھلا چاہتا ہے ! میں کہ خود کو بھی کوئی فیض کبھی دے نہ سکا ! اور تُو ہے کہ فقط مجھ سے صلہ چاہتا ہے ! تُو مجھے روز ملے ! ملتا رہے ! ملتا رہے ! میں کہوں یا نہ کہوں ! دل تو مرا چاہتا ہے ! تُو تو مجھ طالبِ غم شخص پہ حیران نہ ہو دل بڑا ہے ناں ! سو یہ غم بھی بڑا چاہتا ہے ! سب کہیں ہم نے تجھے چاہا ! تُو دیکھے مری سمت ! اور اشارے سے کہے ! سب سے جدا چاہتا ہے !
وہ بولی کیا ہوا گر آنکھ میں آنسو نہیں آئے
وہ بولی کیا ہوا گر آنکھ میں آنسو نہیں آئے میں بولا کچھ نہیں لیکن دکھوں سے بھر گیا جیون وہ بولی آرزو کی فصل بوتے تھک گئی تھی میں میں بولا دیکھ لو اب کاٹتا ہے، غمزدہ جیون وہ بولی کیا ہے تم مجھ کو پرائے کیوں نہیں لگتے میں بولا میں نے جو ہاتھوں میں تیرے دھر دیا جیون وہ بولی زین تم ہی تو مرا واحد سہارا ہو میں بولا میں گزاروں کس طرح بے آسرا جیون وہ بولی میں سراپا بے خیالی اوڑھ بیٹھی ہوں میں بولا ڈھانپتا پھرتا ہوں میں اک بے سِرا جیون وہ بولی درد بڑھ جائے تو قابو میں نہیں رہتا میں بولا کیا کریں لائیں کہاں سے دوسرا جیون وہ بولی زین کیوں آنکھیں تمہاری سہمی رہتی ہیں میں بولا حادثاتِ وصل سے اب ڈر گیا جیون وہ بولی زین کچی عمر میں پکی محبت کیوں؟ میں بولا کیا ہوا دورِ محبت کیا ہوا جیون