اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

علی کا پیش کردہ کلام

عدم کا خلا

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے وہ لے جائیں ساتھ اپنے یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے کوئی دیکھ کر یہ سوچے کہ یہ ہمارے بھی پاس ہوتی یہاں کوئی راہ رو نہیں ہے نہ کوئی منزل یہاں اندھیرا نہیں اجالا نہیں کوئی شے نہیں ہے گزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں اس جگہ پے بہ پے رواں ہیں ہر ایک شے کو سجھاتے جاتے ہر ایک شے کو جلاتے جاتے مٹاتے جاتے ہر ایک شے کو سجھاتے جاتے کہ کچھ نہیں ہست سے بھی حاصل ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا یہ سب معابد یہ شہر گاؤں فسانۂ زیست کے نشاں ہیں مگر ہر اک در پہ جا کے دیکھا ہر ایک دیوار روند ڈالی ہر ایک روزن کو دل سمجھ کر یہ بھید جانا گزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں ہر جگہ پے بہ پے رواں ہیں کہیں مٹاتے کہیں مٹانے کے واسطے نقش نو بناتے حیات رفتہ حیات آئندہ سے ملے گی یہ کون جانے ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا ہر جگہ دام دوریوں کا بچھا ہوا ہے ہر اک جگہ وقت ایک عفریت کی طرح یوں کھڑا ہوا ہے کہ جیسے وہ کائنات کا عکس بے کراں ہو کبھی فریب خیال بن کر کبھی کبھی بھول کر شعور جمال بن کر شکار کی ناتواں نظر کو سجھا رہا ہے ہر ایک شے سے مرا نشان عدم عیاں ہے عدم بھی دریوزہ گر ہے میرا مرے ہی بل پر رواں دواں ہے ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا فسانۂ زیست کا جھلستا ہوا اجالا بھی مٹ چکا ہے مگر ہو مٹ کر کوئی اندھیرا نہیں بنا ہے کہ اس جگہ تو کوئی اندھیرا نہیں اجالا نہیں یہاں کوئی شے نہیں ہے

— میراجی