اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

مجبوریاں

میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتا سکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا کوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لے جو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتا متاع سوز و ساز زندگی پیمانہ و بربط میں خود کو ان کھلونوں سے بھی اب بہلا نہیں سکتا وہ بادل سر پہ چھائے ہیں کہ سر سے ہٹ نہیں سکتے ملا ہے درد وہ دل کو کہ دل سے جا نہیں سکتا ہوس کاری ہے جرم خودکشی میری شریعت میں یہ حد آخری ہے میں یہاں تک جا نہیں سکتا نہ طوفاں روک سکتے ہیں نہ آندھی روک سکتی ہے مگر پھر بھی میں اس قصر حسیں تک جا نہیں سکتا وہ مجھ کو چاہتی ہے اور مجھ تک آ نہیں سکتی میں اس کو پوجتا ہوں اور اس کو پا نہیں سکتا یہ مجبوری سی مجبوری یہ لاچاری سی لاچاری کہ اس کے گیت بھی دل کھول کر میں گا نہیں سکتا زباں پر بے خودی میں نام اس کا آ ہی جاتا ہے اگر پوچھے کوئی یہ کون ہے بتلا نہیں سکتا کہاں تک قصۂ آلام فرقت مختصر یہ ہے یہاں وہ آ نہیں سکتی وہاں میں جا نہیں سکتا حدیں وہ کھینچ رکھی ہیں حرم کے پاسبانوں نے کہ بن مجرم بنے پیغام بھی پہنچا نہیں سکتا

— اسرار الحق مجاز

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے اور صبر آزما بھی ہوتی ہے روح ہوتی ہے کیف پرور بھی اور درد آشنا بھی ہوتی ہے حسن کو کر نہ دے یہ شرمندہ عشق سے یہ خطا بھی ہوتی ہے بن گئی رسم بادہ خواری بھی یہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے جس کو کہتے ہیں نالۂ برہم ساز میں وہ صدا بھی ہوتی ہے کیا بتا دو مجازؔ کی دنیا کچھ حقیقت نما بھی ہوتی ہے

— اسرار الحق مجاز