اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

شرارے

خود کو بہلانا تھا آخر خود کو بہلاتا رہا میں بہ ایں سوز دروں ہنستا رہا گاتا رہا مجھ کو احساس فریب رنگ و بو ہوتا رہا میں مگر پھر بھی فریب رنگ و بو کھاتا رہا میری دنیائے وفا میں کیا سے کیا ہونے لگا اک دریچہ بند مجھ پر ایک وا ہونے لگا اک نگار ناز کی پھرنے لگیں آنکھیں مجازؔ اک بت کافر کا دل درد آشنا ہونے لگا عین ہنگام طرب روح طرب تھرا گئی دفعتاً دل کے افق پر اک گھٹا سی چھا گئی ایک آغوش تمنا کا تقاضا دیکھ کر ایک دل کی سرد مہری بھی مجھے یاد آ گئی مجرم سرتابی حسن جواں ہو جائیے گل فشانی تا کجا شعلہ فشاں ہو جائیے کھائیے گا اک نگاہ لطف کا کب تک فریب کوئی افسانہ بنا کر بد گماں ہو جائیے

— اسرار الحق مجاز