سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
نذر دل
اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میں کیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہے خود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں دل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرأتیں اور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میں دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں میں قسم کھاتا ہوں اپنے نطق کے اعجاز کی تم کو بزم ماہ و انجم میں بٹھا سکتا ہوں میں سر پہ رکھ سکتا ہوں تاج کشور نورانیاں محفل خورشید کو نیچا دکھا سکتا ہوں میں میں بہت سرکش ہوں لیکن اک تمہارے واسطے دل بجھا سکتا ہوں میں آنکھیں بچا سکتا ہوں میں تم اگر روٹھو تو اک تم کو منانے کے لئے گیت گا سکتا ہوں میں آنسو بہا سکتا ہوں میں جذب ہے دل میں مرے دونوں جہاں کا سوز و ساز بربط فطرت کا ہر نغمہ سنا سکتا ہوں میں تم سمجھتی ہو کہ ہیں پردے بہت سے درمیاں میں یہ کہتا ہوں کہ ہر پردہ اٹھا سکتا ہوں میں تم کہ بن سکتی ہو ہر محفل میں فردوس نظر مجھ کو یہ دعویٰ کہ ہر محفل پہ چھا سکتا ہوں میں آؤ مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریں دہر پر اس طرح چھا جائیں کہ سب دیکھا کریں
رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا
رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا روشنی کے قدموں میں اندھیروں کا لہو تھا گھر میں بیٹھے ایسے ہی خیال آیا جنوں کی آوارہ سی آنکھوں میں جلال آیا اک سنسان راستے پہ محو سفر تھا میں اپنی مستی میں جہاں سے بے خبر تھا میں دیکھا تو میری راہ میں اک چیز پڑی تھی شائد کسی راہگیر کے ہاتھوں سے گری تھی کچھ دیر تو اسے دیکھا میں نے رک کر بس اٹھانے ہی والا تھا جھک کر ایسے میں صدا آئی نہ ہاتھ لگانا مجھ کو برباد ہو جاو گے ہر گز نہ اٹھانا مجھکو حیراں ہو کہ پوچھا تم چیز کیا ہو مٹی کا ہو کر پیکر یا معجزہ خدا ہو جو کچھ بھی ہو آخر بولتے کیوں نہیں ہو راز اپنی حقیقت کا کھولتے کیوں نہیں ہو سن کے میرا سوال یوں بول دیا اس نے راز اپنی حقیقت کا پھر کھول دیا اس نے کہنے لگا مجھے غور سے دیکھو بہت زرد ہوں میں نام میرا تو سنا ہو گا درد ہوں میں ترس کھا کے اسے راستے سے اٹھا لیا میں نے دل کے مہماں خانے میں اسے بسا لیا میں نے عجب مہماں ہے جانے کا نام نہیں لیتا کسی اور مہماں خانے کا نام نہیں لیتا اسی روز سے قاسم میری چشم تر میں رہتا ہے میرے دل کو گھر سمجھتا ہے اور گھر میں رہتا ہے