سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
نوجوان خاتون سے
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا خود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا تری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میں اسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھا یہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشت تو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھا دل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصل تو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھا ترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہو میں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھا اگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصل بھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھا ترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہے اگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھا عیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبے انہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھا سنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نے تو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے
حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے دل کی جانب نظر ہے کیا کہئے پھر وہی رہ گزر ہے کیا کہئے زندگی راہ پر ہے کیا کہئے حسن خود پردہ ور ہے کیا کہئے یہ ہماری نظر ہے کیا کہئے آہ تو بے اثر تھی برسوں سے نغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہئے حسن ہے اب نہ حسن کے جلوے اب نظر ہی نظر ہے کیا کہئے آج بھی ہے مجازؔ خاک نشیں اور نظر عرش پر ہے کیا کہئے
تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کے
تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کے ارماں ہوئے پورے دل کے، اے میری جان وفا تیری میری، میری تیری، ایک جان ہے ساتھ تیرے رہیں گے سدا ، تم سے نہ ہونگے جدا میرے صنم، تیری قسم، چھوڑیں گے اب نہ یہ ہاتھ یہ زندگی گزرے گی اب ہمدم تمہارے ہی ساتھ اپنا یہ وعدہ رہا، تم سے نہ ہونگے جدا میں نے کیا ہے رات دن، بس تیرا ہی انتظار تیرے بنا آتا نہیں، ایک پل مجھے اب قرار ہمدم میرا مل گیا، ہم تم نہ ہونگے جدا ہمدم میرا مل گیا، اب ہم نہ ہونگے جدا