اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

نوجوان خاتون سے

حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا خود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا تری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میں اسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھا یہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشت تو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھا دل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصل تو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھا ترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہو میں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھا اگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصل بھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھا ترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہے اگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھا عیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبے انہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھا سنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نے تو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

— اسرار الحق مجاز

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے

حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے دل کی جانب نظر ہے کیا کہئے پھر وہی رہ گزر ہے کیا کہئے زندگی راہ پر ہے کیا کہئے حسن خود پردہ ور ہے کیا کہئے یہ ہماری نظر ہے کیا کہئے آہ تو بے اثر تھی برسوں سے نغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہئے حسن ہے اب نہ حسن کے جلوے اب نظر ہی نظر ہے کیا کہئے آج بھی ہے مجازؔ خاک نشیں اور نظر عرش پر ہے کیا کہئے

— اسرار الحق مجاز

تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کے

تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کے ارماں ہوئے پورے دل کے، اے میری جان وفا تیری میری، میری تیری، ایک جان ہے ساتھ تیرے رہیں گے سدا ، تم سے نہ ہونگے جدا میرے صنم، تیری قسم، چھوڑیں گے اب نہ یہ ہاتھ یہ زندگی گزرے گی اب ہمدم تمہارے ہی ساتھ اپنا یہ وعدہ رہا، تم سے نہ ہونگے جدا میں نے کیا ہے رات دن، بس تیرا ہی انتظار تیرے بنا آتا نہیں، ایک پل مجھے اب قرار ہمدم میرا مل گیا، ہم تم نہ ہونگے جدا ہمدم میرا مل گیا، اب ہم نہ ہونگے جدا

— نا معلوم