اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ ہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سے دیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور زیادہ ٹپکے گا لہو اور مرے دیدۂ تر سے دھڑکے گا دل خانہ خراب اور زیادہ ہوگی مری باتوں سے انہیں اور بھی حیرت آئے گا انہیں مجھ سے حجاب اور زیادہ اسے مطرب بیباک کوئی اور بھی نغمہ اے ساقیٔ فیاض شراب اور زیادہ

— اسرار الحق مجاز

مزدوروں کا گیت

محنت سے یہ مانا چور ہیں ہم آرام سے کوسوں دور ہیں ہم پر لڑنے پر مجبور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم گو آفت و غم کے مارے ہیں ہم خاک نہیں ہیں تارے ہیں اس جگ کے راج دلارے ہیں مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم بننے کی تمنا رکھتے ہیں مٹنے کا کلیجہ رکھتے ہیں سرکش ہیں سر اونچا رکھتے ہیں مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم ہر چند کہ ہیں ادبار میں ہم کہتے ہیں کھلے بازار میں ہم ہیں سب سے بڑے سنسار میں ہم مزدور میں ہم مزدور ہیں ہم جس سمت بڑھا دیتے ہیں قدم جھک جاتے ہیں شاہوں کے پرچم ساونت ہیں ہم بلونت ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم گو جان پہ لاکھوں بار بنی کر گزرے مگر جو جی میں ٹھنی ہم دل کے کھرے باتوں کے دھنی مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم ہم کیا ہیں کبھی دکھلا دیں گے ہم نظم کہن کو ڈھا دیں گے ہم ارض و سما کو ہلا دیں گے مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم ہم جسم میں طاقت رکھتے ہیں سینوں میں حرارت رکھتے ہیں ہم عزم بغاوت رکھتے ہیں مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم جس روز بغاوت کر دیں گے دنیا میں قیامت کر دیں گے خوابوں کو حقیقت کر دیں گے مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم ہم قبضہ کریں گے دفتر پر ہم وار کریں گے قیصر پر ہم ٹوٹ پڑیں گے لشکر پر مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم

— اسرار الحق مجاز

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی ہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں یہ قرار کیا غم زندگی بھی ہے زندگی جو نہیں خوشی تو نہیں سہی سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی

— پیر نصیرالدین