اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

آج

کار فرما پھر مرا ذوق غزل خوانی ہے آج پھر نفس کا ساز گرم شعلہ افشانی ہے آج پھر نگاہ شوق کی گرمی ہے اور روئے نگار پھر عرق آلود اک کافر کی پیشانی ہے آج پھر مرے لب پر قصیدے ہیں لب و رخسار کے پھر کسی چہرے پہ تابانی سی تابانی ہے آج حسن اس درجہ نشاط حسن میں ڈوبا ہوا انکھڑیاں بے خود شمیم زلف دیوانی ہے آج لرزش لب میں شراب‌ و شعر کا طوفان ہے جنبش مژگاں میں افسون غزل خوانی ہے آج وہ نفس کی زمزمہ سنجی نظر کی گفتگو سینۂ معصوم میں اک طرفہ طغیانی ہے آج یاں بایں عالم غرور یوسفیت بھی نہیں واں زلیخائی بہ عزم چاکدامانی ہے آج واں اشارے ہیں بہک جانا ہی عیش ہوش ہے ہوش میں رہنا یقیناً سخت نادانی ہے آج کش مکش سی کش مکش میں ہے مذاق عاشقی کامراں سی کامراں ہر سعئ امکانی ہے آج حسن کے چہرے پہ ہے نور صداقت کی دمک عشق کے سر پر کلاہ فخر انسانی ہے آج شوق سے موقع شناسی کی توقع بھی غلط میں نے ان کی شکل بھی مشکل سے پہچانی ہے آج

— اسرار الحق مجاز

عشرت تنہائی

میں کہ مے خانۂ الفت کا پرانا مے خوار محفل حسن کا اک مطرب شیریں گفتار ماہ پاروں کا ہدف زہرہ جبینوں کا شکار نغمہ پیرا و نواسنج و غزل خواں ہوں میں کتنے دلکش مرے بت خانۂ ایماں کے صنم وہ کلیساؤں کے آہو وہ غزالان حرم میں ہمہ شوق و محبت وہ ہمہ لطف و کرم مرکز مرحمت محفل خوباں ہوں میں موجزن ہے مئے عشرت مرے پیمانوں میں یاس کا درد ہے کم تر مرے افسانوں میں کامرانی ہے پرافشاں مرے رومانوں میں یاس کی سعئ جنوں خیز پہ خنداں ہوں میں میرے افکار میں مہتاب کی طلعت غلطاں میری گفتار میں ہے صبح کی نزہت غلطاں میرے اشعار میں ہے پھولوں کی نکہت غلطاں روح گل زار ہوں میں جان گلستاں ہوں میں لاکھ مجبور ہوں میں ذوق خود آرائی سے دل ہے بیزار اب اس عشرت تنہائی سے آنکھ مجبور نہیں ہے مری بینائی سے محرم درد و غم عالم انساں ہوں میں کیوں نہ چاہوں کہ ہر اک ہاتھ میں پیمانہ ہو یاس و محرومی و مجبوری اک افسانہ ہو عام اب فیض مے و ساقی و مے خانہ ہو رند ہوں اور جگر گوشۂ رنداں ہوں میں اب یہ ارماں کہ بدل جائے جہاں کا دستور ایک اک آنکھ میں ہو عیش و فراغت کا سرور ایک اک جسم پہ ہو اطلس و کمخواب و سمور اب یہ بات اور ہے خود چاک گریباں ہوں میں

— اسرار الحق مجاز