اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

زاہد کا پیش کردہ کلام

اعتراف

اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا ماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری جنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم خاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی سنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھا دشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھا ریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا آہ یہ راز ابھی میں نے کہاں جانا تھا میری ہر فتح میں ہے ایک ہزیمت پنہاں ہر مسرت میں ہے راز غم و حسرت پنہاں کیا سنوگی مری مجروح جوانی کی پکار میری فریاد جگر دوز مرا نالۂ زار شدت کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار میں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکار وہ گداز دل مرحوم کہاں سے لاؤں اب میں وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں میرے سائے سے ڈرو تم مری قربت سے ڈرو اپنی جرأت کی قسم اب میری جرأت سے ڈرو تم لطافت ہو اگر میری لطافت سے ڈرو میرے وعدوں سے ڈرو میری محبت سے ڈرو اب میں الطاف و عنایت کا سزا وار نہیں میں وفادار نہیں ہاں میں وفادار نہیں اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو

— اسرار الحق مجاز