سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
حسن کو بے حجاب ہونا تھا
حسن کو بے حجاب ہونا تھا شوق کو کامیاب ہونا تھا ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ خون دل بھی شراب ہونا تھا تیرے جلووں میں گھر گیا آخر ذرے کو آفتاب ہونا تھا کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا رات تاروں کا ٹوٹنا بھی مجازؔ باعث اضطراب ہونا تھا
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ ہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سے دیکھوں گا ابھی عشق کے خواب اور زیادہ ٹپکے گا لہو اور مرے دیدۂ تر سے دھڑکے گا دل خانہ خراب اور زیادہ ہوگی مری باتوں سے انہیں اور بھی حیرت آئے گا انہیں مجھ سے حجاب اور زیادہ اسے مطرب بیباک کوئی اور بھی نغمہ اے ساقیٔ فیاض شراب اور زیادہ