سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
راجا اکرام قمر
زاہد
سحر
سید جینٹلمین
صباگل
علی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
آزاد کا پیش کردہ کلام
یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر
یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر بنو کیوں چارہ گر تم کیا کرو گے چارہ گر ہو کر دکھا دے ایک دن اے حسن رنگیں جلوہ گر ہو کر وہ نظارہ جو ان آنکھوں میں رہ جائے نظر ہو کر دل سوز آشنا کے جلوے تھے جو منتشر ہو کر فضائے دہر میں چمکا کئے برق و شرر ہو کر وہی جلوے جو اک دن دامن دل سے گریزاں تھے نظر میں رہ گئے گل ہائے دامان نظر ہو کر فلک کی سمت کس حسرت سے تکتے ہیں معاذ اللہ یہ نالے نارسا ہو کر یہ آہیں بے اثر ہو کر یہ کس کے حسن کے رنگین جلوے چھائے جاتے ہیں شفق کی سرخیاں بن کر تجلیٔ سحر ہو کر