اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر

یوں ہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر بنو کیوں چارہ گر تم کیا کرو گے چارہ گر ہو کر دکھا دے ایک دن اے حسن رنگیں جلوہ گر ہو کر وہ نظارہ جو ان آنکھوں میں رہ جائے نظر ہو کر دل سوز آشنا کے جلوے تھے جو منتشر ہو کر فضائے دہر میں چمکا کئے برق و شرر ہو کر وہی جلوے جو اک دن دامن دل سے گریزاں تھے نظر میں رہ گئے گل ہائے دامان نظر ہو کر فلک کی سمت کس حسرت سے تکتے ہیں معاذ اللہ یہ نالے نارسا ہو کر یہ آہیں بے اثر ہو کر یہ کس کے حسن کے رنگین جلوے چھائے جاتے ہیں شفق کی سرخیاں بن کر تجلیٔ سحر ہو کر

— اسرار الحق مجاز