سپیکرز
سحر کا پیش کردہ کلام
کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے
کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں اے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں بھول گئے سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے یہ اپنی وفا کا عالم ہے اب ان کی جفا کو کیا کہئے اک نشتر زہر آگیں رکھ کر نزدیک رگ جاں بھول گئے
سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں
سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں ہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیں تاثیر جذب شوق دکھائے ہوئے تو ہیں ہم تیرا ہر حجاب اٹھائے ہوئے تو ہیں ہاں کیا ہوا وہ حوصلۂ دید اہل دل دیکھو نا وہ نقاب اٹھائے ہوئے تو ہیں تیرے گناہ گار گنہ گار ہی سہی تیرے کرم کی آس لگائے ہوئے تو ہیں اللہ ری کامیابی آوارگان عشق خود گم ہوئے تو کیا اسے پائے ہوئے تو ہیں یوں تجھ کو اختیار ہے تاثیر دے نہ دے دست دعا ہم آج اٹھائے ہوئے تو ہیں ذکر ان کا گر زباں پہ نہیں ہے تو کیا ہوا اب تک نفس نفس میں سمائے ہوئے تو ہیں مٹتے ہوؤں کو دیکھ کے کیوں رو نہ دیں مجازؔ آخر کسی کے ہم بھی مٹائے ہوئے تو ہیں
جدھر دیکھتی ہوں اُدھر تم ہی تم ہو
جدھر دیکھتی ہوں اُدھر تم ہی تم ہو نا جانے مگر کن خیالوں میں گُم ہو مجھے دیکھ کر تم ، زرا مسکرا دو نہیں تو میں سمجھونگی ، مجھ سے خفا ہو