اسرار الحق مجاز

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)

14 December 2025

13سپیکرز
213لسنرز

سپیکرز

سحر کا پیش کردہ کلام

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں اے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں بھول گئے سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے یہ اپنی وفا کا عالم ہے اب ان کی جفا کو کیا کہئے اک نشتر زہر آگیں رکھ کر نزدیک رگ جاں بھول گئے

— اسرار الحق مجاز

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں

سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں ہم اپنے دل کو طور بنائے ہوئے تو ہیں تاثیر جذب شوق دکھائے ہوئے تو ہیں ہم تیرا ہر حجاب اٹھائے ہوئے تو ہیں ہاں کیا ہوا وہ حوصلۂ دید اہل دل دیکھو نا وہ نقاب اٹھائے ہوئے تو ہیں تیرے گناہ گار گنہ گار ہی سہی تیرے کرم کی آس لگائے ہوئے تو ہیں اللہ ری کامیابی آوارگان عشق خود گم ہوئے تو کیا اسے پائے ہوئے تو ہیں یوں تجھ کو اختیار ہے تاثیر دے نہ دے دست دعا ہم آج اٹھائے ہوئے تو ہیں ذکر ان کا گر زباں پہ نہیں ہے تو کیا ہوا اب تک نفس نفس میں سمائے ہوئے تو ہیں مٹتے ہوؤں کو دیکھ کے کیوں رو نہ دیں مجازؔ آخر کسی کے ہم بھی مٹائے ہوئے تو ہیں

— اسرار الحق مجاز

جدھر دیکھتی ہوں اُدھر تم ہی تم ہو

جدھر دیکھتی ہوں اُدھر تم ہی تم ہو نا جانے مگر کن خیالوں میں گُم ہو مجھے دیکھ کر تم ، زرا مسکرا دو نہیں تو میں سمجھونگی ، مجھ سے خفا ہو

— نا معلوم