سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

گریس کا پیش کردہ کلام

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکا جو تیرا لہجہ جو تیرے گیتوں پہیلیوں کا امین بن کر سماعتوں کو ہزار لفظوں کی داستانیں سنا گیا ہے ابھی ابھی بے کراں سا لمحہ جو کتنی صدیوں کا بوجھ اٹھائے گزر گیا ہے جو میری آنکھوں میں سوئے منظر جگا گیا ہے ابھی ابھی تیرا اک صحیفہ اک عہد بن کر دیار دل میں اتر گیا ہے مرا بدن ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا ہے میں دیکھتا ہوں کہ نام تیرا زبان تیری کلام تیرا زمیں کی پستی سے آسماں کی بلندیوں تک ہر آنے والے نصاب لمحے کا پیشوا ہے میں سوچتا ہوں کہ تجھ پہ لکھوں جو تجھ پہ لکھا تو حرف میرے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں میں چاہتا ہوں کہ تجھ کو سوچوں جو تجھ کو سوچا تو ذات تیری پہیلیوں میں الجھ گئی ہے

— سلیم کوثر