سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ریبل کا پیش کردہ کلام

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں جو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں راستے کب گرد ہو جاتے ہیں اور منزل سراب ہر مسافر پر طلسم رہ گزر کھلتا نہیں دیکھنے والے تغافل کار فرما ہے ابھی وہ دریچہ کھل گیا حسن نظر کھلتا نہیں جانے کیوں تیری طرف سے دل کو دھڑکا ہی رہا اس تکلف سے تو کوئی نامہ بر کھلتا نہیں انتظار اور دستکوں کے درمیاں کٹتی ہے عمر اتنی آسانی سے تو باب ہنر کھلتا نہیں ہم بھی اس کے ساتھ گردش میں ہیں برسوں سے سلیمؔ جو ستارہ ساتھ رہتا ہے مگر کھلتا نہیں

— سلیم کوثر