سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آمنہ ملک
ارمان
امیدبہار
انتظار حسین
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
ریبل
سجاد وٹو
سید جینٹلمین
صباگل
عالی بخت
عروج فیاض
فخر
فضل عباس
گریس
مرزا جواد
ندیم بخاری
واجد علی
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے
بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے کوئی چہرہ تراشیں گے ، کوئی صورت نکالیں گے ابھی تو پاؤں کے نیچے زمین محسوس ہوتی ہے جہاں یہ ختم ہووے گی ، وہیں ہم گھر بنا لیں گے " یہی ہے نا، تمہیں ہم سے بچھڑ جانے کی جلدی ہے کبھی ملنا، تمھارے مسئلے کا حل نکالیں گے " ابھی چُپکے سے ہجر آثار لمحہ آئے گا اور پھر تم اپنی راہ چل دو گے ہم اپنا راستہ لیں گے جو اپنے خون سے اپنی گواہی خاک پر لکھ دے ہم ایسے آدمی کو آسمانوں پر اٹھا لیں گے میں دیوار ِ ابد کی سمت سے مُڑ کر دیکھتا ہوں جب صدائے غیب آتی ہے تمہیں واپس بلا لیں گے ہمارے ہاتھ جس کے قتل کی سازش میں شامل تھے ”سلیم” اُس شخص کا قاتل سے ہم کیا خون بہا لیں گے