سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے
اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے تازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئے اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہ صورت حال کے لیے واقف حال چاہئے اہل خرد کو آج بھی اپنے یقین کے لیے جس کی مثال ہی نہیں اس کی مثال چاہئے اس کی رفاقتوں کا ہجر جھیلئے کب تلک سلیمؔ اپنی طرح سے اب مجھے وہ بھی نڈھال چاہئے
پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں
پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں اب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیں مجھ میں بدل رہا ہے جو اک عالم خیال اس لمحۂ جنوں کے نگہبان تم نہیں بجھتے ہوئے چراغ کی لو جس نے تیز کی وہ اور ہی ہوا ہے مری جان تم نہیں پھر یوں ہوا کہ جیسے گرہ کھل گئی کوئی مشکل تو بس یہی تھی کہ آسان تم نہیں تم نے سنی نہیں ہے صدائے شکست دل ہم جھیلتے رہے ہیں یہ نقصان تم نہیں تم سے تو بس نباہ کی صورت نکل پڑی جس سے ہوئے تھے وعدہ و پیمان تم نہیں خوش فہمیوں کی بات الگ ہے مگر یہ گھر جس کے لیے سجا ہے وہ مہمان تم نہیں یہ عالم ظہور ہے ہجرت زدہ سلیمؔ ہم بھی دکھی ہیں صرف پریشان تم نہیں
جھلیا عشق کمانا اوکھا
جھلیا عشق کمانا اوکھا کسے نوں یار بنانا اوکھا پیار پیار تے ہر کوئی بولے کرکے پیار نبھانا اوکھا ہر کوئی دکھاں تے ہنس لیندا ای کسی دا درد ودانا اوکھا گلاں نال نئی رتبے مل دے جوگی بھیس وتانا اوکھا کوئی کسے دی گل نئی سن دا لوکاں نوں سمجھاناں اوکھا