سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے

اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے تازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئے اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہ صورت حال کے لیے واقف حال چاہئے اہل خرد کو آج بھی اپنے یقین کے لیے جس کی مثال ہی نہیں اس کی مثال چاہئے اس کی رفاقتوں کا ہجر جھیلئے کب تلک سلیمؔ اپنی طرح سے اب مجھے وہ بھی نڈھال چاہئے

— سلیم کوثر

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں اب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیں مجھ میں بدل رہا ہے جو اک عالم خیال اس لمحۂ جنوں کے نگہبان تم نہیں بجھتے ہوئے چراغ کی لو جس نے تیز کی وہ اور ہی ہوا ہے مری جان تم نہیں پھر یوں ہوا کہ جیسے گرہ کھل گئی کوئی مشکل تو بس یہی تھی کہ آسان تم نہیں تم نے سنی نہیں ہے صدائے شکست دل ہم جھیلتے رہے ہیں یہ نقصان تم نہیں تم سے تو بس نباہ کی صورت نکل پڑی جس سے ہوئے تھے وعدہ و پیمان تم نہیں خوش فہمیوں کی بات الگ ہے مگر یہ گھر جس کے لیے سجا ہے وہ مہمان تم نہیں یہ عالم ظہور ہے ہجرت زدہ سلیمؔ ہم بھی دکھی ہیں صرف پریشان تم نہیں

— سلیم کوثر

جھلیا عشق کمانا اوکھا

جھلیا عشق کمانا اوکھا کسے نوں یار بنانا اوکھا پیار پیار تے ہر کوئی بولے کرکے پیار نبھانا اوکھا ہر کوئی دکھاں تے ہنس لیندا ای کسی دا درد ودانا اوکھا گلاں نال نئی رتبے مل دے جوگی بھیس وتانا اوکھا کوئی کسے دی گل نئی سن دا لوکاں نوں سمجھاناں اوکھا

— بلھے شاہ