سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا غزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہے کہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کا مداوا ہو نہیں سکتا ازالہ کم رہے گا وہ چاندی کا ہو سونے کا ہو یا پھر ہو لہو کا سلیمؔ اہل ہوس کو ہر نوالہ کم رہے گا
تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں
تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں موسمِ ہجر ہے یہ کوئی کرونا تو نہیں میں بدلتے ہوئے حالات کا آئینہ ہوں ہنسنے والے تُو مجھے دیکھ کے رونا تو نہیں دیکھنا چاہتا ہوں میں تِرے جلووں کی نمود جاگنا چاہتا ہوں میں ابھی سونا تو نہیں کس لیے جمع کیے جاتا ہے دنیا دل میں یہ تِرا بوجھ کسی اور نے ڈھونا تو نہیں میرے ہونے سے اگر فرق نہیں پڑتا کوئی پھر جو ہونا ہے مِرا یہ کوئی ہونا تو نہیں آج اس نے عجب انداز سے پوچھا ہے سلیم دل ہی ٹوٹا ہے نا اس بار کھلونا تو نہیں
تمہارے بعد کا سفر رائیگاں لگا مجھ کو
تمہارے بعد کا سفر رائیگاں لگا مجھ کو اداسی ہِجر میں منہ، نوچتے ہوئے گزری کسی کے پاس میسر تھے یار پورے تم کسی کی شام٬ تمہیں سوچتے ہوئے گزری !
کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ
کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ چشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ کب سے راہوں میں تری گرد بنے بیٹھے ہیں تجھ سے ملنے کے لیے وقت کو ٹالے ہوئے لوگ کہیں آنکھوں سے چھلکنے نہیں دیتے تجھ کو کیسے پھرتے ہیں ترے خواب سنبھالے ہوئے لوگ دامن صبح میں گرتے ہوئے تاروں کی طرح جل رہے ہیں تری قربت کے اجالے ہوئے لوگ یا تجھے رکھتے ہیں یا پھر تری خواہش دل میں ایسے دنیا میں کہاں چاہنے والے ہوئے لوگ
جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ
جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ یہاں اک شخص رہتا تھا، کہاں ہے وہ یہاں کشتی کناروں کو ملاتی تھی اور اک دریا بھی بہتا تھا، کہاں ہے وہ انہی بے نام گلیوں کے دریچوں میں چراغ شام جلتا تھا، کہاں ہے وہ وہ چپ رہنے کا عادی تھا، مگر پہلے سخن آغاز کرتا تھا، کہاں ہے وہ اَسے رستہ بدل لینا بھی آتا تھا مگر وہ ساتھ چلتا تھا، کہاں ہے وہ