سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے یہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہے بچھڑتی اور ملتی ساعتوں کے درمیان اک پل یہی اک پل بچانے کے لیے سب کچھ گنوایا ہے ادھر یہ دل ابھی تک ہے اسیر وحشت صحرا ادھر اس آنکھ نے چاروں طرف پہرہ بٹھایا ہے تمہیں کیسے بتائیں جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے نہ تم نے آئنہ دیکھا نہ آئینہ دکھایا ہے ہمیں اک اسم اعظم یاد ہے وہ ساتھ ہے، ہم نے کئی بار آسماں کو ان زمینوں پر بلایا ہے کہاں تک روکتے آنکھوں میں ابر و باد ہجراں کو اب آئے ہو کہ جب یہ شہر زیر آب آیا ہے سلیمؔ اب تک کسی کو بد دعا دی تو نہیں لیکن ہمیشہ خوش رہے جس نے ہمارا دل دکھایا ہے

— سلیم کوثر

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے دل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سے پہلے تو رات ہی کاٹے سے نہیں کٹتی تھی اور اب دن بھی گزرتا نہیں آسانی سے ہم نے اک دوسرے کے عکس کو جب قتل کیا آئینہ دیکھ رہا تھا ہمیں حیرانی سے اب کے ہے لب آب ہی مر جائیں گے پیاس ایسی ہے کہ بجھتی ہی نہیں پانی سے آنکھ پہچانتی ہے لوٹنے والوں کو مگر کون پوچھے گا مری بے سر و سامانی سے یوں ہی دشمن نہیں در آیا مرے آنگن میں دھوپ کو راہ ملی پیڑ کی عریانی سے کوئی بھی چیز سلامت نہ رہے گھر میں سلیمؔ فائدہ کیا ہے بھلا ایسی نگہبانی سے

— سلیم کوثر