سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ملک
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آمنہ ملک
ارمان
امیدبہار
انتظار حسین
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
ریبل
سجاد وٹو
سید جینٹلمین
صباگل
عالی بخت
عروج فیاض
فخر
فضل عباس
گریس
مرزا جواد
ندیم بخاری
واجد علی
فخر کا پیش کردہ کلام
چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے
چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے دل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سے پہلے تو رات ہی کاٹے سے نہیں کٹتی تھی اور اب دن بھی گزرتا نہیں آسانی سے ہم نے اک دوسرے کے عکس کو جب قتل کیا آئینہ دیکھ رہا تھا ہمیں حیرانی سے اب کے ہے لب آب ہی مر جائیں گے پیاس ایسی ہے کہ بجھتی ہی نہیں پانی سے آنکھ پہچانتی ہے لوٹنے والوں کو مگر کون پوچھے گا مری بے سر و سامانی سے یوں ہی دشمن نہیں در آیا مرے آنگن میں دھوپ کو راہ ملی پیڑ کی عریانی سے کوئی بھی چیز سلامت نہ رہے گھر میں سلیمؔ فائدہ کیا ہے بھلا ایسی نگہبانی سے