سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

فخر کا پیش کردہ کلام

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے دل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سے پہلے تو رات ہی کاٹے سے نہیں کٹتی تھی اور اب دن بھی گزرتا نہیں آسانی سے ہم نے اک دوسرے کے عکس کو جب قتل کیا آئینہ دیکھ رہا تھا ہمیں حیرانی سے اب کے ہے لب آب ہی مر جائیں گے پیاس ایسی ہے کہ بجھتی ہی نہیں پانی سے آنکھ پہچانتی ہے لوٹنے والوں کو مگر کون پوچھے گا مری بے سر و سامانی سے یوں ہی دشمن نہیں در آیا مرے آنگن میں دھوپ کو راہ ملی پیڑ کی عریانی سے کوئی بھی چیز سلامت نہ رہے گھر میں سلیمؔ فائدہ کیا ہے بھلا ایسی نگہبانی سے

— سلیم کوثر