سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں
زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں شہر کے شہر اسی غم میں ٹھکانے لگ جائیں جس کو ہر سانس میں محسوس کِیا ہے ہم نے ہم اسے ڈھونڈنے نکلیں تو زمانے لگ جائیں ابر سے اب کے ہواؤں نے یہ سازش کی ہے خشک پیڑوں پہ ثمر پھر سے نہ آنے لگ جائیں کاش، اب کے تِرے آنے کی خبر سچی ہو ہم منڈیروں سے پرندوں کو اڑانے لگ جائیں شعر کا نشہ جو اترے کبھی اک پَل کے لئے زندگی ہم بھی تِرا قرض چکانے لگ جائیں سوچتے یہ ہیں تِرا نام لکھیں آنکھوں پر چاہتے یہ ہیں تجھے سب سے چھپانے لگ جائیں اس طرح دن کے اجالے سے ڈرے لوگ سلیمؔ شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھانے لگ جائیں
فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے
فریبِ جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے لگا ہواہے جو دربار، ختم ہونے کو ہے کہانی کار نے اپنے لیے لکھا ہے جسے کہانی میں وہی کِردار ختم ہونے کو ہے سمجھ رہے ہوکہ تم سے ہے گرمئ بازار سو اب یہ گرمئ بازار ختم ہونے کو ہے مسیحا، کیسا تجھے لگ رہا ہے، کچھ تو بتا کہ تیرے سامنے بیمار ختم ہونے کو ہے برہنہ ہوتی چلی جا رہی ہے یہ دُنیا کہیں گلی، کہیں دیوار ختم ہونے کو ہے یہ کیا ہوا تجھے تسلیم کرنے والوں میں سُنا ہے، جراتِ اظہار ختم ہونے کو ہے جو مجھ پہ بیت گئی وہ خبر نہیں مِلتی کہ اب تو سارا ہی اخبار ختم ہونے کو ہے اب اس کے بعد نئی زندگی کا ہے آغاز یہ زندگی تو مرے یار ختم ہونے کو ہے سلیم کثرتِ اشیا کی گرد میں آخر غرُورِ درہم و دینار ختم ہونے کو ہے
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوا منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ سر پھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں