سپیکرز
واجد علی کا پیش کردہ کلام
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا غزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہے کہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کا مداوا ہو نہیں سکتا ازالہ کم رہے گا وہ چاندی کا ہو سونے کا ہو یا پھر ہو لہو کا سلیمؔ اہل ہوس کو ہر نوالہ کم رہے گا
ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس
ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس تم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بس لوگوں کو راستے کی ضرورت ہے اور مجھے اک سنگ رہ گزر کو ہٹانا ہے اور بس مصروفیت زیادہ نہیں ہے مری یہاں مٹی سے اک چراغ بنانا ہے اور بس سوئے ہوئے تو جاگ ہی جائیں گے ایک دن جو جاگتے ہیں ان کو جگانا ہے اور بس تم وہ نہیں ہو جن سے وفا کی امید ہے تم سے مری مراد زمانہ ہے اور بس پھولوں کو ڈھونڈتا ہوا پھرتا ہوں باغ میں باد صبا کو کام دلانا ہے اور بس آب و ہوا تو یوں بھی مرا مسئلہ نہیں مجھ کو تو اک درخت لگانا ہے اور بس نیندوں کا رت جگوں سے الجھنا یوں ہی نہیں اک خواب رائیگاں کو بچانا ہے اور بس اک وعدہ جو کیا ہی نہیں ہے ابھی سلیمؔ مجھ کو وہی تو وعدہ نبھانا ہے اور بس