سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

واجد علی کا پیش کردہ کلام

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا غزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہے کہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کا مداوا ہو نہیں سکتا ازالہ کم رہے گا وہ چاندی کا ہو سونے کا ہو یا پھر ہو لہو کا سلیمؔ اہل ہوس کو ہر نوالہ کم رہے گا

— سلیم کوثر

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس تم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بس لوگوں کو راستے کی ضرورت ہے اور مجھے اک سنگ رہ گزر کو ہٹانا ہے اور بس مصروفیت زیادہ نہیں ہے مری یہاں مٹی سے اک چراغ بنانا ہے اور بس سوئے ہوئے تو جاگ ہی جائیں گے ایک دن جو جاگتے ہیں ان کو جگانا ہے اور بس تم وہ نہیں ہو جن سے وفا کی امید ہے تم سے مری مراد زمانہ ہے اور بس پھولوں کو ڈھونڈتا ہوا پھرتا ہوں باغ میں باد صبا کو کام دلانا ہے اور بس آب و ہوا تو یوں بھی مرا مسئلہ نہیں مجھ کو تو اک درخت لگانا ہے اور بس نیندوں کا رت جگوں سے الجھنا یوں ہی نہیں اک خواب رائیگاں کو بچانا ہے اور بس اک وعدہ جو کیا ہی نہیں ہے ابھی سلیمؔ مجھ کو وہی تو وعدہ نبھانا ہے اور بس

— سلیم کوثر