سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

مرزا جواد کا پیش کردہ کلام

یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی کوئی کہیں چھپ کے رونا چاہے تو رو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی یہاں بکھرنے کا غم، سمٹنے کی لذّتیں منکشف ہیں جس پر وہ ایک دھاگے میں سارے موتی پرو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی جسے ہواؤں کی سرکشی نے بچا لیا دھوپ کی نظر سے وہ ابرِ آوارہ، دامنِ دل بھگو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی یہ میں ہوں، تم ہو، وہ ایلچی ہے، غلام ہیں اور وہ راستہ ہے اب اس کہانی کا کوئی انجام ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ترے لیے عشق جاگتا ہے، ترے لیے حسن جاگتا ہے سو اب تُو چاہے تو اپنی مرضی سے سو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی یہاں ارادے کو جبر پر اختیار حاصل رہا تو اتنا کوئی کسی کا، جو ہونا چاہے، تو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی نئی مسافت کے رتجگوں کا خمار کیسا چڑھا ہوا ہے سلیم کوثر! یہ نشّہ تم کو ڈبو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

— سلیم کوثر

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک سیل فنا سو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں اب اور کتنا گنہ گار کرنا چاہتے ہیں گل امید فروزاں رہے تری خوشبو کہ لوگ اسے بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں اٹھائے پھرتے ہیں کب سے عذاب در بدری اب اس کو وقف رہ یار کرنا چاہتے ہیں جہاں کہانی میں قاتل بری ہوا ہے وہاں ہم اک گواہ کا کردار کرنا چاہتے ہیں وہ ہم ہیں جو تری آواز سن کے تیرے ہوئے وہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں

— سلیم کوثر