سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم بھی گھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کر لیتے تمہاری طرح جینے کا ہنر آتا تو پھر شاید مکان اپنا وہی رکھتے پتا تبدیل کر لیتے وہی کردار ہیں تازہ کہانی میں جو پہلے بھی کبھی چہرہ کبھی اپنی قبا تبدیل کر لیتے جدائی بھی نہ ہوتی زندگی بھی سہل ہو جاتی جو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم بول اٹھے ورنہ گواہی دینے والے واقعہ تبدیل کر لیتے بہت دھندلا گیا یادوں کی رم جھم میں دل سادہ وہ مل جاتا تو ہم یہ آئینہ تبدیل کر لیتے