سلیم کوثر

‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)

24 November 2025

18سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے اب تو انعام دیا جاتا ہے غداری پر تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے آئنہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو لوگ اتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر

— سلیم کوثر

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے دل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہے وہ کہتا ہے آخری باب عشق مکمل کر لیں اور میں سوچ رہا ہوں پہلا باب کہاں رکھنا ہے حسن کی یکتائی کا بس اتنا احساس ہے مجھ کو کانٹوں کی ترتیب میں ایک گلاب کہاں رکھنا ہے

— سلیم کوثر