سپیکرز
حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر
دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر دیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پر میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر آدمی آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر کبھی اس جرم پہ سر کاٹ دئے جاتے تھے اب تو انعام دیا جاتا ہے غداری پر تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے آئنہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو لوگ اتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر
یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے
یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے دل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہے وہ کہتا ہے آخری باب عشق مکمل کر لیں اور میں سوچ رہا ہوں پہلا باب کہاں رکھنا ہے حسن کی یکتائی کا بس اتنا احساس ہے مجھ کو کانٹوں کی ترتیب میں ایک گلاب کہاں رکھنا ہے