آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا

نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا جو اپنے بس کا نہیں اس کا آسرا نہ لگا حیات لذت آزار کا ہے دوسرا نام نمک چھڑک تو چھڑک زخم پر دوا نہ لگا مرے خیال کی دنیا میں اس جہاں سے دور یہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا خوشی یہ دل کی ہے اس میں نہیں ہے عقل کو دخل برا وہ کہتے رہے اور کچھ برا نہ لگا چمک سے برق کی کم تر ہے وقفۂ دیدار نظر ہٹی کہ اسے ہاتھ اک بہانہ لگا مری تلاش تھی تشویش دیدۂ بے نور وہ ملتے کیا مجھے اپنا ہی جب پتا نہ لگا

— آرزو لکھنوی

بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے

بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے بس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھے یہ دل ہے شوق میں بے خود وہ آنکھ نشہ میں چور جھکا نہ دے سوۓ ساغر بھڑکتی پیاس مجھے ادھر ملامت دنیا ادھر ملامت نفس بڑا عذاب ہے آئے ہوئے حواس مجھے پلٹ دو بات نہ لو منہ سے نام رخصت کا ابھی سے گھر نظر آنے لگا اداس مجھے جو ملتفت ہیں یہ نظریں بدل بھی سکتی ہیں بنا چکا ہے زمانہ ادا شناس مجھے

— آرزو لکھنوی