آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں

آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں اب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیں بے آپ خوشی سے ایک ادھر کچھ کھویا ہوا سا ایک ادھر ظاہر میں بہم باطن میں جدا تم اور کہیں ہم اور کہیں آئے تو خوشامد سے آئے بیٹھے تو مروت سے بیٹھے ملنا ہی یہ کیا جب دل نہ ملا تم اور کہیں ہم اور کہیں وعدہ بھی کیا تو کی نہ وفا آتا ہے تمہیں چرکوں میں مزا چھوڑو بھی یہ ضد لطف اس میں ہے کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں برگشتہ نصیب کا یوں ہونا سونا بھی تو اک کروٹ سونا کب تک یہ جدائی کا رونا تم اور کہیں ہم اور کہیں دل ملنے پہ بھی پہلو نہ ملا دشمن تو بغل ہی میں ہے چھپا قاتل ہے محبت کی یہ حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں یکسوئی دل مرغوب ہمیں بربادئ دل مطلوب تمہیں اس ضد کا ہے اور انجام ہی کیا تم اور کہیں ہم اور کہیں دل سے ہے اگر قائم رشتہ تو دور و قریب کی بحث ہی کیا ہے یہ بھی نگاہوں کا دھوکا تم اور کہیں ہم اور کہیں سن رکھو قبل عہد وفا قول آرزوئے شیدائی کا جنت بھی ہے دوزخ گر یہ ہوا تم اور کہیں ہم اور کہیں

— آرزو لکھنوی

تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا

تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا پٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جا وہ ہاتھ مار پلٹ کر جو کر دے کام تمام بڑے عذاب میں ہوں میں ثواب لیتا جا وہ بن ہی گھر سے ہے اچھا سکون جس میں ملے مجھے بھی او دل خانہ خراب لیتا جا ملے اک آہ کا وقفہ تو وقت پرشش حال ہر اک سوال کا اپنے جواب لیتا جا نقاب اٹھا کے کیا سامنا تو منہ کو نہ پھیر دکھا کے خواب نہ آنکھوں سے خواب لیتا جا

— آرزو لکھنوی