آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

زین چوہدری کا پیش کردہ کلام

کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا

کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا جھجھکنا مرا ان کا پہچان جانا نہ لہراتے آنسو نہ چاہت ٹپکتی ادھر آنکھ ملنا ادھر جان جانا وہ آنکھیں کٹیلی ہیں چتون نکیلی یہ جانا بھی تو ہو کے انجان جانا جو ایسا ہو کیا اس کو سمجھائے کوئی سمجھنے سے پہلے مرا جان جانا وہ چاہے تو پھر رات کو دن بنا دے سکھا دے جو ان کو کہا مان جانا کھلے آرزو وہ جو تم سے تو سمجھو کہ اک اجنبی ایک انجان جانا

— آرزو لکھنوی