آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا

کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا ساری جوانی آدھا مہینہ دنیائے دل کی رسمیں نرالی بے موت مرنا بے آس جینا روکا تھا دم بھر لہراتا آنسو آ آ گیا ہے دانتوں پسینہ وہ ایسے ہی ہیں جا رے جوانی جو خود ہی بخشا وہ خود ہی چھینا جس کا تھا وعدہ وہ کل نہ آئی دن گنتے گزرا سارا مہینہ منہ پر صفائی اور چور دل میں آئینہ پھینکو پونچھو پسینہ بس آرزوؔ بس فردا کا وعدہ برسوں کی باتیں دو دن کا جینا

— آرزو لکھنوی