سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا موج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتا دل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا راہ الفت میں سمجھ لو دل کو گونگا رہ نما ساتھ ہے اور دے نہیں سکتا ہے منزل کا پتا کہتا ہے ناصح کہ واپس جاؤ اور میں سادہ لوح پوچھتا ہوں خود اسی سے کوئے قاتل کا پتا راہبر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا آئی اک آواز تیر اور نکلی دل سے اف پھر نہ قاتل کا نشاں پایا نہ بسمل کا پتا بانکی چتون والے محشر میں ہزاروں ہیں تو ہوں مل ہی جائے گا کسی صورت سے قاتل کا پتا اس جگہ بسمل نے دم توڑا جہاں کی خاک تھی یوں لگاتے ہیں لگانے والے منزل کا پتا پوچھنے والے نے یہ پوچھا کہ کیوں بیدل ہو کیوں اور مجھ کو مل گیا کھوئے ہوئے دل کا پتا موجیں ٹکرائی ہوئیں دشمن بھی نکلیں دوست بھی پیچھے کشتی کو ڈھکیلا دے کے ساحل کا پتا رہ گیا ہے ٹوٹ کر زخم جگر میں تیر ناز اب لگا لینا نہیں دشوار قاتل کا پتا سوختہ پروانے کشتہ شمع فرش داغ دار دے رہے ہیں رات کی گرمئ محفل کا پتا میں وفا کیش آرزوؔ اور وہ وفا نا آشنا پڑ گیا مشکل میں پا کر اپنی مشکل کا پتا
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے سیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہے ناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑے کشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل بول اٹھا ساحل ہی تو ہے ہے ظرف یہاں کس کا کتنا دل بس ہے اسی کا پیمانہ رونا بھی برا ہنسنا بھی برا جو بات ہے وہ مشکل ہی تو ہے ناخوش ہے تو کیا ہے خوش ہے تو کیا جیسا بھی سہی ہے تو اپنا یہ ساتھ نہیں چھٹنے والا بے کس کا سہارا دل ہی تو ہے ہیں موت کے اس جینے میں مزے غم جس کو نہ ہو وہ کیا سمجھے جب ثابت کرتے بن نہ پڑے جو دعویٰ ہے باطل ہی تو ہے تھی خضر طریق افتاد یہاں اور سنگ حوادث سنگ نشاں حد راہ طلب کی آ گئی ہاں جاتا ہے کہاں منزل ہی تو ہے دکھ دے کے الٹے دینا کیا فریاد نتیجہ ہے غم کا جب ٹھیس لگی شیشہ ٹھنکا پتھر نہ سمجھئے دل ہی تو ہے آپ آرزوؔ اب خاموش رہیں کچھ اچھی بری کھل کر نہ کہیں ہیں جتنے منہ اتنی باتیں محفل آخر محفل ہی تو ہے