آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں

مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں ہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاں دلوں میں فرق ہوا جب تو چاہ پیار کہاں چمن چمن ہی نہیں آئے گی بہار کہاں جسے یہ کہہ کے وہ ہنس دیں کہ قصہ اچھا ہے وہ راز کھل کے بھی ہوتا ہے آشکار کہاں امنگ تھی یہ جوانی کی یا کوئی آندھی ملا کے خاک میں ہم کو گئی بہار کہاں امیدوار بنانے سے مدعا کیا تھا جب آس تم نے دلا دی تو اب قرار کہاں ملی ہے اس لیے دو چار دن کی آزادی کہ صرف کرتا ہے دیکھیں یہ اختیار کہاں یہ شوق لے کے چلا ہے چمن سے شکل نسیم کہ دیکھیں ملتی ہے جاتی ہوئی بہار کہاں ہے ایک شرط وفا کی وہ قید بے زنجیر سب اختیار ہیں اور کچھ بھی اختیار کہاں مٹے نشاں پہ نظر کر کے رو جسے چاہے ترے ستم کی ہے تربت مرا مزار کہاں تم ایسا عہد شکن آرزوؔ سا ناامید کہو جو سچ بھی تو آتا ہے اعتبار کہاں

— آرزو لکھنوی