سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زین چوہدری
سجاد رضا
سحربیاں
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
ندیم بخاری
وسیم بخاری
یادرفتگان
حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام
مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں
مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں ہو اعتبار تو پھر تاب انتظار کہاں دلوں میں فرق ہوا جب تو چاہ پیار کہاں چمن چمن ہی نہیں آئے گی بہار کہاں جسے یہ کہہ کے وہ ہنس دیں کہ قصہ اچھا ہے وہ راز کھل کے بھی ہوتا ہے آشکار کہاں امنگ تھی یہ جوانی کی یا کوئی آندھی ملا کے خاک میں ہم کو گئی بہار کہاں امیدوار بنانے سے مدعا کیا تھا جب آس تم نے دلا دی تو اب قرار کہاں ملی ہے اس لیے دو چار دن کی آزادی کہ صرف کرتا ہے دیکھیں یہ اختیار کہاں یہ شوق لے کے چلا ہے چمن سے شکل نسیم کہ دیکھیں ملتی ہے جاتی ہوئی بہار کہاں ہے ایک شرط وفا کی وہ قید بے زنجیر سب اختیار ہیں اور کچھ بھی اختیار کہاں مٹے نشاں پہ نظر کر کے رو جسے چاہے ترے ستم کی ہے تربت مرا مزار کہاں تم ایسا عہد شکن آرزوؔ سا ناامید کہو جو سچ بھی تو آتا ہے اعتبار کہاں