سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
تسکین دل کا یہ کیا قرینہ
تسکین دل کا یہ کیا قرینہ روکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گی ہے کس ہوا میں دل کا سفینہ ہیں کیا معمہ یہ آگ پانی پیتا ہوں آنسو جلتا ہے سینہ غم تجھ کو پیارا تو مجھ کو پیاری دل کی تمنا نازک حسینہ آج اس نے آنسو ہنس ہنس کے پونچھے خشکی میں ابھرا ڈوبا سفینہ تاریخ دل کی خود نقش دل ہے کھا کھا کے چوٹیں چٹکا نگینہ ٹوٹا ہوا دل الفت بھرا تھا ڈھا کر عمارت پایا دفینہ حد خرد سے ذات اس کی برتر اونچی ہے منزل نیچا ہے زینہ تم آرزوؔ ہو تم آرزوؔ ہو پھر کیسی رنجش پھر کیسا کینہ
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں یعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں دل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ جیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل پردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں چور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیا مٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں قید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑا ہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں آرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیدار اور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں