آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

تسکین دل کا یہ کیا قرینہ

تسکین دل کا یہ کیا قرینہ روکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گی ہے کس ہوا میں دل کا سفینہ ہیں کیا معمہ یہ آگ پانی پیتا ہوں آنسو جلتا ہے سینہ غم تجھ کو پیارا تو مجھ کو پیاری دل کی تمنا نازک حسینہ آج اس نے آنسو ہنس ہنس کے پونچھے خشکی میں ابھرا ڈوبا سفینہ تاریخ دل کی خود نقش دل ہے کھا کھا کے چوٹیں چٹکا نگینہ ٹوٹا ہوا دل الفت بھرا تھا ڈھا کر عمارت پایا دفینہ حد خرد سے ذات اس کی برتر اونچی ہے منزل نیچا ہے زینہ تم آرزوؔ ہو تم آرزوؔ ہو پھر کیسی رنجش پھر کیسا کینہ

— آرزو لکھنوی

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں یعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں دل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ جیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل پردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں چور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیا مٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں قید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑا ہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں آرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیدار اور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں

— آرزو لکھنوی