سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زین چوہدری
سجاد رضا
سحربیاں
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
ندیم بخاری
وسیم بخاری
یادرفتگان
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں یعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں دل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ جیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل پردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں چور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیا مٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں قید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑا ہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں آرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیدار اور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں