آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں

دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں یعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوں دل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں اک ذرا سی خلش درد جگر پر یہ گھمنڈ جیسے کل عشق کی جاگیر لیے بیٹھا ہوں ہے مجھے ساز طرب سوختہ سامانی دل پردۂ خاک میں اکسیر لیے بیٹھا ہوں چور شیشے پہ نظر پڑتے ہی دل یاد آیا مٹنے والے تری تصویر لیے بیٹھا ہوں قید کو توڑ کے سمجھا کہ سہارا توڑا ہاتھ میں پاؤں کی زنجیر لیے بیٹھا ہوں آرزوؔ ہو چکی سو مرتبہ دنیا بیدار اور میں سوئی ہوئی تقدیر لیے بیٹھا ہوں

— آرزو لکھنوی