آرزو لکھنوی

پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی

06 January 2026

18سپیکرز
255لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچے چہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندۂ گل بلبل میں ہوگا گل میں نغمہ بلبل کا قصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا بات کرو خود قابل شکوہ الٹے مجھ کو رہنے دو

— آرزو لکھنوی

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا

گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا بہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیا امین عشق نے دل بے خطر خرید لیا یہ آئنہ مع آئینہ گر خرید لیا غضب تھا عشق کا سودا کہ اہل ہوش نے بھی جو کچھ نصیب تھا سب بیچ کر خرید لیا بھلا ہو غم کی تنک ظرفیٔ طبیعت کا اگرچہ بات گنوا دی اثر خرید لیا رہ رضا میں ہے خونی کفن سے شان شہید تو جان بیچ کے رخت سفر خرید لیا جو دل کہے نہ کہوں وہ جو تو کہے وہ کہوں تو کیا ضمیر بھی اے حیلہ گر خرید لیا تلاش عیش میں اے آرزوؔ ہے رنج ہی رنج ستم نصیب یہ کیا درد سر خرید لیا

— آرزو لکھنوی