سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچے چہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو خندۂ گل بلبل میں ہوگا گل میں نغمہ بلبل کا قصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کا بات کرو خود قابل شکوہ الٹے مجھ کو رہنے دو
گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا
گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا بہت گراں تھا یہ سودا مگر خرید لیا امین عشق نے دل بے خطر خرید لیا یہ آئنہ مع آئینہ گر خرید لیا غضب تھا عشق کا سودا کہ اہل ہوش نے بھی جو کچھ نصیب تھا سب بیچ کر خرید لیا بھلا ہو غم کی تنک ظرفیٔ طبیعت کا اگرچہ بات گنوا دی اثر خرید لیا رہ رضا میں ہے خونی کفن سے شان شہید تو جان بیچ کے رخت سفر خرید لیا جو دل کہے نہ کہوں وہ جو تو کہے وہ کہوں تو کیا ضمیر بھی اے حیلہ گر خرید لیا تلاش عیش میں اے آرزوؔ ہے رنج ہی رنج ستم نصیب یہ کیا درد سر خرید لیا