سپیکرز
حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام
کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا آگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا آگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرا بے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا دل شوق کے جوش میں دوڑ چلا اور جوش تو ہوتا ہے اندھا در بند پڑا تھا قسمت کا ٹکر جو لگی تیورا کے گرا جتنی بھی دل کی ضرورت تھی بس اتنی ہی ہمت و طاقت تھی رستے کی کھکھیڑیں جھیل گیا پاس آتے ہی میں چکرا کے گرا کیا عشق کی منزل بھی ہے کڑی بندھ بندھ کر ہمت ٹوٹ گئی جو ایک قدم چل کر سنبھلا وہ دو قدم آگے جا کے گرا سلگی ہوئی ہے غم کی بھٹی دل کیوں نہ پگھل کے بنے پانی جو قطرہ آنسو ہو کے بہا لہرا کے چلا تیورا کے گرا وہ نالہ فلک سے ٹکرایا وہ آرزوؔ اک تارا ٹوٹا دشمن کی طرف جو لپکا تھا شعلہ وہ مجھی پر آ کے گرا
قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں
قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں میں دور ہٹ رہا ہوں وہ پاس آ رہے ہیں اعجاز پاک بازی حیرت میں لا رہے ہیں دل مل گیا ہے دل سے پہلو جدا رہے ہیں وہ دل سے غم بھلا کر دل کو لبھا رہے ہیں گزرے ہوئے زمانے پھر پھر کے آ رہے ہیں سینے میں ضبط غم سے چھالا ابھر رہا ہے شعلے کو بند کر کے پانی بنا رہے ہیں معنی نہ پوچھ ظالم اس عذر بے گنہ کے اپنے کو اول دے کر تجھ کو بچا رہے ہیں اے بے خودی کہاں ہے جلدی مری خبر لے بھولے تھے جو بہ مشکل پھر یاد آ رہے ہیں لیں کام ضبط سے کیا الٹا ہے دل کا پھوڑا اتنا ابھر رہا ہے جتنا دبا رہے ہیں فرقت میں ساز راحت ساماں عذاب کا ہے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کیا جی جلا رہے ہیں ہیں حسن کے کرشمے کیا انقلاب آگیں غم خوار جو تھے کل تک اب خار کھا رہے ہیں خود ان کی جستجو میں ہم دور بھاگے ورنہ وہ کب الگ رہے ہیں وہ کب جدا رہے ہیں لے لے کے ٹھنڈی سانسیں پوچھو نہ حال دیکھو تم بھید کھولتے ہو اور ہم چھپا رہے ہیں دیکھ آرزوؔ یہ رونا شانہ ہلا ہلا کر تو آج خواب میں ہے اور وہ جگا رہے ہیں