سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا
اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا آنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا جانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جا دل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا سانس کا تار ٹوٹ جائے ٹوٹے نہ تار آہ کا ایک ہی لے پہ گائے جا ایک ہی دھن بجائے جا حکم طلب کے منتظر شوق کی آبرو نہ کھو سر کو قدم بنا کے چل آنکھوں سے بے بلائے جا لے وہ دوائے تلخ ہے جس کا اثر ہے خوش گوار پینے میں منہ بنائے جا دل میں مزے اٹھائے جا جوشش چشم اشک بار مفت نہ رکھ کرم کا بار میری لگی تو بجھ چکی اپنی لگی بجھائے جا منزل بے خودیٔ شوق حد نظر سے دور ہے پیچھے پلٹ کے بھی نہ دیکھ آگے قدم بڑھائے جا اک ہمہ تن ہے پائے ناز اک ہمہ تن سر نیاز یہ تو چلن جہاں کا ہے جتنا دے دبائے جا ظرف شراب تیرے پاس ظروف سرور میرے پاس دل تو نہیں بقدر جام دیکھ نہ منہ پلائے جا دونوں ہیں ناز دلبری ضد میں ہے جن کی اور لطف ایک طرف لگائے جا ایک طرف بجھائے جا چاند میں گم چکور خود چاند کہیں چھپا ہوا اپنی تلاش ختم کر اس کا پتہ لگائے جا آرزوؔ اس سے کہہ دو صاف غم کا اثر ہے دیر پا جلد ہنسی نہ آئے گی اور ابھی گدگدائے جا
انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر
انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر مسئلہ پیش ہوا، صبر وشکیبائی کا رنگ یہ دیکھ کے یورپ کے مدبر گھبراۓ جلد سامان کیا ، انجمن آرائی کا بزم تہذیب میں پیدا ہوئی بے چینی سی کچھ حماقت سے چلا زور ، نہ دانائی کا آسٹریا نے بس اک بار بدل کر پہلو مدعا فوت کیا انجمن آراہی کا جرمنی منتظرِ وقت تھا اک مدت سے اور سبب مل بھی گیا حوصلہ افزائی کا آسٹریا سے کہا ۔۔ ہو نہ ہراساں دل میں میں ترے حق میں ہوں مونسِ غم ِ تنہائی کا جو شمس قہر میں ، جامے گر ہوا یوں باہر فصل گل میں ہو جو عالم کسی سودائی کا دفعتا چونک پڑا شاہد رعناۓ فرانس چھٹ گیا ہاتھ سے آئینہ خود آراہی کا دلبری بھول گئے ناز ونزاکت والے آپڑا وقت جو ہاتھوں کی توانائی کا لب جاں بخش سے برطانیہ کی آئی صدا کہ یہی وقت ہے اندازِ مسیحائی کا ٹالنے سے مگر آئی ہوئی آفت نہ ٹلی ہوا انکار نصیحت کی پزیرائی کا خاکِ برلن سے ہوۓ آگ کے شعلے وہ بلند شفقی رنگ ہوا گنبدِ مینائی کا امتحاں گاہ نظر آئی مہذب دنیا ولولہ بڑھنے لگا معرکہ آرائی کا سنگ و فولاد بنے ،قلب ،بنی آدم کے خون جائز ہوا بھائی کے لیئے بھائی کا نہ تو باقی ہے محبت ، مروت، نہ وفا چشمہ آنکھوں سے ہوا دی شناسائی کا ظالموں نے جو ،کَسی ، ظلم و تعدی پہ کمر نہ کیا پاس حسینوں کی بھی رعنائی کا پوپ صاحب کی بھی سنتا نہیں کوئی اب تو وقت ہے پیش خدا ، ناصیہ فرسائی کا آرزو خیر طلب ہم تو اسی کے ہوں گے جس کو ہے پاس ، لحاظ اپنی دل آرائ کا