سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی کبھی اٹھتا شعلہ کبھی بہتا پانی ہے خوشی کا سودا خلش نہانی ہے جگر کا چھالا ثمر جوانی جو خوشی ہے فانی تو ہے غم بھی فانی نہ یہ جاودانی نہ وہ جاودانی ازلی محبت ابدی کہانی کہ پس فنا ہے نئی زندگانی ستم و رضا میں یہ ہے عہد محکم جو تری کہانی وہ مری کہانی وہ اٹھیں گے طوفاں کہ خدا بچائے یہ نئے نظارے یہ بھری جوانی یہ نگاہ ترچھی یہ بل ابروؤں کا ہر ادا ہے دل کش مگر امتحانی مری کشتئ دل دم آہ و افغاں کبھی بادبانی تو کبھی دہانی در دل سے پلٹا ہر اک آنے والا تری یاد کیا تھی مری پاسبانی یہ ترا تلون یہ بدلتی چتون عجب اک بلا ہے کہ ہے ناگہانی مری کشت دل پر پئے ژالہ باری ہے سپید بادل عقب جوانی کبھی آرزو تھا یہی داغ حسرت مجھے جو بنا دے تری مہربانی
مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا
مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا چور کر دے کیوں نہ وہ شیشہ جسے پتھر دیا اس سے طالب ہوں دیت کا آپ سے مطلب نہیں جس نے گردن ایک کو دی ایک کو خنجر دیا تھا مکافات عمل احباب کا حسن عمل یہ بھی ایسا قرض تھا جو اور سے لے کر دیا اب نہ ہے فکر حفاظت اور نہ ضیق رفع کار دینے والے نے دیا اور میری خواہش بھر دیا گریۂ بے اختیار غم بھی تھا فطری علاج جس نے تھوڑے جوش کو ہر مرتبہ کم کر دیا جس میں کیف غم نہیں باز آئے ایسے دل سے ہم یہ بھی دنیا ہے کوئی مے تو نہ دی ساغر دیا آرزوؔ اک روز ڈھا دیتا مجھے میرا ہی زور یہ بھی اس کی کارسازی دل میں جس نے ڈر دیا