سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کو اس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرح وہی نا کردہ گناہی پہ ندامت اس کی کسی ٹھہری ہوئی ساعت کی طرح مہر بہ لب مجھ سے دیکھی نہیں جاتی یہ اذیت اس کی آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھو منہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی خود وہ آغوش کشادہ ہے جزیرے کی طرح پھیلے دریاؤں کی مانند محبت اس کی روشنی روح کی آتی ہے مگر چھن چھن کر سست رو ابر کا ٹکڑا ہے طبیعت اس کی ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر ثبت پھیلی ہوئی ہوئی باہوں پہ حرارت اس کی وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ آنکھیں کھولو ابھی محسوس کیے جاؤ رفاقت اس کی دل دھڑکتا ہے تو وہ آنکھ بلاتی ہے مجھے سانس آتی ہے تو ملتی ہے بشارت اس کی وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لرز جاتا ہوں مجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی وہ کہیں جان نہ لے ریت کا ٹیلہ ہوں میں میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی بے طلب جینا بھی شہزادؔ طلب ہے اس کی زندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی
کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے
کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے میں جہاں ڈوب رہا ہوں وہاں پانی کم ہے بھول کر بھی کوئی سنتا نہیں روداد مری واقعہ اس میں زیادہ ہے کہانی کم ہے اے خدا پھر مرے جذبوں کو فراوانی دے زندگی بھر کے لیے ایک جوانی کم ہے میرے لہجے سے مرے درد کا اندازہ کر میری باتوں میں اگر تلخ بیانی کم ہے یہ محبت ہے کہ احساس ہے محرومی کا میری آنکھوں میں بہت کچھ ہے زبانی کم ہے