شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کو اس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرح وہی نا کردہ گناہی پہ ندامت اس کی کسی ٹھہری ہوئی ساعت کی طرح مہر بہ لب مجھ سے دیکھی نہیں جاتی یہ اذیت اس کی آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھو منہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی خود وہ آغوش کشادہ ہے جزیرے کی طرح پھیلے دریاؤں کی مانند محبت اس کی روشنی روح کی آتی ہے مگر چھن چھن کر سست رو ابر کا ٹکڑا ہے طبیعت اس کی ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر ثبت پھیلی ہوئی ہوئی باہوں پہ حرارت اس کی وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ آنکھیں کھولو ابھی محسوس کیے جاؤ رفاقت اس کی دل دھڑکتا ہے تو وہ آنکھ بلاتی ہے مجھے سانس آتی ہے تو ملتی ہے بشارت اس کی وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لرز جاتا ہوں مجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی وہ کہیں جان نہ لے ریت کا ٹیلہ ہوں میں میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی بے طلب جینا بھی شہزادؔ طلب ہے اس کی زندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی

— شہزاد احمد

کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے

کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے میں جہاں ڈوب رہا ہوں وہاں پانی کم ہے بھول کر بھی کوئی سنتا نہیں روداد مری واقعہ اس میں زیادہ ہے کہانی کم ہے اے خدا پھر مرے جذبوں کو فراوانی دے زندگی بھر کے لیے ایک جوانی کم ہے میرے لہجے سے مرے درد کا اندازہ کر میری باتوں میں اگر تلخ بیانی کم ہے یہ محبت ہے کہ احساس ہے محرومی کا میری آنکھوں میں بہت کچھ ہے زبانی کم ہے

— شہزاد احمد