سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے
ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے میں کیوں نہ کہوں مجھ سے بھی ہیں خام فرشتے وہ نور ہیں میں خاک ہوں لیکن مرے باعث لیتے نہیں اک لمحہ بھی آرام فرشتے تنہائی میں آ جاتی ہیں حوریں مرے گھر میں چمکاتے ہیں مسجد کے در و بام فرشتے اک میں ہی تو ہوں رات گئے جاگنے والا سو جاتے ہیں بے ہوش سر شام فرشتے جنت سے نکالا ہوا انسان وہی ہے شیطان بنے بیٹھے ہیں ناکام فرشتے ہوں اتنا گنہ گار کہ اللہ کے آگے لیتے ہوئے ڈرتے ہیں مرا نام فرشتے دنیا ہوئی آباد تو میرے ہی سبب سے انجام نہ دے پائے کوئی کام فرشتے کیا سوچ کے انسان سے شرمائے ہوئے ہیں دیتے نہیں دیدار سر عام فرشتے میں ایک گنہ گار نصیحت کا ہدف ہوں دنیا میں بھی ملتے ہیں بہر گام فرشتے یہ دختر رز دانۂ گندم تو نہیں ہے چکھیں تو سہی بادۂ گلفام فرشتے یوں غیب سے میں ڈھونڈ کے لایا ہوں مضامیں جیسے کوئی لے آئے تہ دام فرشتے جو بات مرے دل میں تھی آئی ہے زباں پر اب کرتے پھریں گے مجھے بد نام فرشتے شہزادؔ زمانہ ہوا لیکن مری جانب لاتے نہیں اللہ کا پیغام فرشتے
میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو
میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو تم اگر میری جگہ ہو تو بھلا کیا نہ کرو اب تو اے دل ہوس ساغر و مینا نہ کرو چھوڑ بھی دو یہ تقاضا یہ تقاضا نہ کرو دل پہ اے دوست قیامت سی گزر جاتی ہے تم نگاہ غلط انداز سے دیکھا نہ کرو پھر بھی آنکھیں انہیں ہر بات بتا دیتی ہیں دل تو کہتا ہے کسی بات کا چرچا نہ کرو اب مرا درد مری جان ہوا جاتا ہے اے مرے چارہ گرو اب مجھے اچھا نہ کرو یہ سر بزم مری سمت اشارے کیسے میں تماشا تو نہیں میرا تماشا نہ کرو مل ہی جاتی ہے کبھی یاس میں تسکین مجھے اے امیدو مجھے ایسے میں تو چھیڑا نہ کرو اس نے شہزادؔ تری بات کو ٹھکرا ہی دیا میں نہ کہتا تھا کہ اظہار تمنا نہ کرو