شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

آمنہ نعیم کا پیش کردہ کلام

بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے

بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے یہ نور ہے یا نور کی دریوزہ گری ہے ہے آج بھی پہلو میں وہی زخم بہاراں اب تک مری آنکھوں میں ہر اک شاخ ہری ہے دنیا میں اندھیروں کے سوا اور رہا کیا اک تیری تمنا سو چراغ سحری ہے اب ساتھ نہ دے پائیں گے ٹوٹے ہوئے بازو اڑتے ہوئے لمحوں سے مری ہم سفری ہے ہر لحظہ بدلتی ہوئی آنکھوں پہ نہ جاؤ دل کے لیے امید فزا بے خبری ہے جلوے کی بصیرت کو سمجھتی نہیں آنکھیں آئینے کا مقدور پریشاں نظری ہے اڑتے ہوئے آتے ہیں ابھی سنگ تمنا اور کار گہہ دل کی وہی شیشہ گری ہے چپ چاپ دریچوں کی طرف دیکھتے پھرنا زندہ ہیں تو شہزادؔ یہی در بدری ہے

— شہزاد احمد