سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آمنہ نعیم
امل خان
ایم سعید
ڈاکٹر شعیب
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سید جینٹلمین
شہزاد
کریسنٹ
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
آمنہ نعیم کا پیش کردہ کلام
بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے
بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے یہ نور ہے یا نور کی دریوزہ گری ہے ہے آج بھی پہلو میں وہی زخم بہاراں اب تک مری آنکھوں میں ہر اک شاخ ہری ہے دنیا میں اندھیروں کے سوا اور رہا کیا اک تیری تمنا سو چراغ سحری ہے اب ساتھ نہ دے پائیں گے ٹوٹے ہوئے بازو اڑتے ہوئے لمحوں سے مری ہم سفری ہے ہر لحظہ بدلتی ہوئی آنکھوں پہ نہ جاؤ دل کے لیے امید فزا بے خبری ہے جلوے کی بصیرت کو سمجھتی نہیں آنکھیں آئینے کا مقدور پریشاں نظری ہے اڑتے ہوئے آتے ہیں ابھی سنگ تمنا اور کار گہہ دل کی وہی شیشہ گری ہے چپ چاپ دریچوں کی طرف دیکھتے پھرنا زندہ ہیں تو شہزادؔ یہی در بدری ہے