سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا کیسے ہو جس سے دو روز بھی کھل کر نہ ملاقات ہوئی مدتوں بعد ملے بھی تو گلا کیسے ہو دور سے دیکھ کے میں نے اسے پہچان لیا اس نے اتنا بھی نہیں مجھ سے کہا کیسے ہو وہ بھی اک دور تھا جب میں نے تجھے چاہا تھا دل کا دروازہ ہے ہر وقت کھلا کیسے ہو جب کوئی داد وفا چاہنے والا نہ رہا کون انصاف کرے حشر بپا کیسے ہو آئنے میں بھی نظر آتی ہے صورت تیری کوئی مقصود نظر تیرے سوا کیسے ہو کن نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہوں شہزادؔ مجھ کو معلوم نہیں اس کو پتا کیسے ہو
چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا
چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا وہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا میں جا چکا ہوں مرے واسطے اداس نہ ہو میں وہ ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا کسی نے یہ نہ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا ہمارے دل میں ہے کیا جھانک کر نہ دیکھ سکے خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا وہ تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا وہ انجمن میں ملا بھی تو اس نے بات نہ کی کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں شہزادؔ خدا نے بھی تو زمیں پر گرا کے چھوڑ دیا