شہزاد احمد

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

11 January 2026

14سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو عمر ساری تو اندھیرے میں نہیں کٹ سکتی ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیا کیسے ہو جس سے دو روز بھی کھل کر نہ ملاقات ہوئی مدتوں بعد ملے بھی تو گلا کیسے ہو دور سے دیکھ کے میں نے اسے پہچان لیا اس نے اتنا بھی نہیں مجھ سے کہا کیسے ہو وہ بھی اک دور تھا جب میں نے تجھے چاہا تھا دل کا دروازہ ہے ہر وقت کھلا کیسے ہو جب کوئی داد وفا چاہنے والا نہ رہا کون انصاف کرے حشر بپا کیسے ہو آئنے میں بھی نظر آتی ہے صورت تیری کوئی مقصود نظر تیرے سوا کیسے ہو کن نگاہوں سے اسے دیکھ رہا ہوں شہزادؔ مجھ کو معلوم نہیں اس کو پتا کیسے ہو

— شہزاد احمد

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا وہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا میں جا چکا ہوں مرے واسطے اداس نہ ہو میں وہ ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا کسی نے یہ نہ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا ہمارے دل میں ہے کیا جھانک کر نہ دیکھ سکے خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا وہ تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا وہ انجمن میں ملا بھی تو اس نے بات نہ کی کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں شہزادؔ خدا نے بھی تو زمیں پر گرا کے چھوڑ دیا

— شہزاد احمد